سیلاب متاثرین کی اصل آزمائش

سیلاب متاثرین کی اصل آزمائش

انسان بے حس نہ ہوورنہ کسی کے دکھ درد کو محسوس کرنا کچھ ایسا مشکل نہیں بلکہ انسانی دکھ درد کو محسوس کرنا تو خدائے بزگ و برتر کی ذات نے انسانی فطرت میں رکھا ہے اور جو لوگ اس صفت سے محروم ہیں وہ انسان نظر ضرور آتے ہیں لیکن وہ انسانیت سے یقینا محروم ہوتے ہیں۔ پاکستان اس وقت تاریخ کے ایک بڑے سیلاب کا سامنا کر رہا ہے بلوچستان، سندھ، خیبر پختونخوا، گلگت  بلتستان اور پنجاب کے تین اضلاع بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔سیلاب کا حجم کیا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف سندھ میں 11سو ملی میٹر بارش ہوئی اور اس سے جو سیلاب آیا وہ بیس تربیلا ڈیم کے برابر تھا اور وزیر اعلیٰ سندھ نے درست کہا ہے کہ جو احمق صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کر کے ڈیم ڈیم کا شور مچا رہے ہیں وہ صرف یہ بتا دیں کہ سندھ میں پہلے مرحلہ پر شدید بارشوں کی وجہ سے جو سیلاب آیا اسے جدید سائنس کے کس فارمولہ کے ذریعے واپس موڑ کر ڈیموں تک لے جایا جائے۔خیر یہ تو جملہ متعرضہ تھا یہ صرف سندھ کے اندر جو بارشوں کی وجہ سے سیلاب آیا اس کا حجم تھا جبکہ اسی پہلے مرحلہ میں بلوچستان میں سیلاب نے جو تباہی کی داستانیں رقم کی وہ علیحدہ ہیں جبکہ اس کی وسعت اس لحاز سے بہت زیادہ تھی کہ سیلابی بارشوں کا سلسلہ جون کے وسط سے شروع ہو گیا تھا اور پھر مسلسل ستمبر کے شروع تک یہ سلسلہ جاری رہا اور ابھی بارشوں سے نجات نہیں ملی تھی کہ دریائی ریلوں نے تباہی مچانی شروع کر دی اور گلگت  بلتستان سے شروع ہو کر یہ خیبر پختونخوا کو تاراج کرتے ہوئے سندھ میں داخل ہوئے اور پہلے بارشوں اور بعد میں ان دریائی ریلوں نے بستیوں کی بستیاں صفحہ ہستی سے مٹا کر رکھ دیں۔ کہتے ہیں کہ قدرتی آفات میں سیلاب سب سے بڑی آفت ہے کہ زلزلہ کا شمار بھی بڑی اور خوفناک آفات میں ہوتا ہے اور اس میں بھی چند سیکنڈ کے اندر بہت زیادہ تباہی پھیلتی ہے لیکن اس میں عمارات سے باہر آ جائیں تو جائے پناہ مل جاتی ہے لیکن سیلاب میں تو انسان گھر کے اندر یا باہر کہیں محفوظ نہیں رہتا اور زلزلہ یقینا عمارات اور انسانی جانوں کے لئے خطر ناک ہوتا ہے لیکن اس سے بہرحال فصلیں محفوظ رہتی ہیں لیکن سیلاب سے تو ہر چیز فنا ہو جاتی ہے۔

مون سون کا موسم ختم ہو چلا ہے اور دریائی ریلے بھی بحرہ عرب میں جا رہے ہیں گو کہ پانی ابھی موجود ہے لیکن اس نے بھی چند دنوں میں اتر جانا ہے لیکن اب اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ کروڑوں سیلاب متاثرین کہ جو بچوں بوڑھوں اور خواتین کے ساتھ کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں انھیں واپس اپنے گھروں میں دوبارہ کیسے 

بسایا جائے۔ان پر جو بیت رہی ہے اور جن تکالیف کا وہ سامنا کر رہے ہیں اس کا احساس کرنا کوئی مشکل کام نہیں اس کے لئے اول تو انسانیت کی ضرورت ہے اور دوسرا ہر انسان پر زندگی میں بے شمار مرتبہ یقینا ایسا وقت آتا ہے کہ جب اس کے گھر کا کوئی فرد رات کے کسی پہر سخت بیمار ہو اور اس وقت ڈاکٹر تک رسائی ممکن نہ ہو تو سوچیں کہ اس وقت انسان کی کیا حالت ہوتی ہے اور خاص طور پر اگر مریض کوئی بچہ ہو۔بیماری چاہے معمولی سی ہی کیوں نہ ہو انسان کو تڑپا کر رکھ دیتی ہے۔ ہیضہ کی وجہ سے پیٹ میں درد ہو تو ایک گولی یا انجکشن سے خدا شفا بخش دیتا ہے اور اگر دوا نہ ملے تو انسان اور خاص طور پر بچے جس اذیت سے دوچار ہوتے ہیں اس کا اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں ہے۔ جن بیچاروں کے گھر بار سب تباہ ہو گئے ان کا تو یہ حال ہے کہ خواتین کے پاس اب پہننے کو کپڑے تک نہیں بچے اور سخت گرمی اور شدید حبس کے موسم میں کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں شروع کے دنوں میں تو بہت برا حال تھا لیکن خدائے بزرگ وبرتر کا شکر ہے کہ اب امداد پہنچنی شروع ہو چکی ہے اور امدادی کام بھی شروع ہو گیا ہے۔ اس لئے کہ سیلاب کے دوران جو آزمائش تھی وہ اپنی جگہ پر لیکن سیلاب متاثرین اور ارباب اختیار کا اصل امتحان تو اب شروع ہوا ہے۔جس طرح قطرہ قطرہ کر کے دریا بنتا ہے اسی طرح انسان تنکا تنکا کر کے گھر بناتا ہے اور پھر اس گھر کو رہنے کے قابل بنانے کے لئے کیا کچھ نہیں کرتا۔ اپنی حیثیت کے مطابق سوئی سے لے کر سلائی تک بناتا ہے اور جب پوری زندگی کی کمائی لمحوں میں آنکھوں کے سامنے اجڑ جائے۔ مال مویشی سب ختم ہو جائیں تو سوچیں کہ انسان کی کیا حالت ہو گی۔

اس وقت تو ان مصیبت کے ماروں کو خوراک اور دیگر ضروریات زندگی کی اشد ضرورت ہے اور اچھی بات یہ ہے کہ اب امداد انھیں مل بھی رہی ہے لیکن ہر جگہ پانی کھڑا ہوا ہے حبس اور گرمی کا موسم ہے اور اس دوران نا مراد ڈینگی ہر جگہ سر اٹھا رہا ہے اس لئے کہ اس کے لئے ماحول بڑا سازگار ہے تو اس مرحلہ میں سب سے زیادہ اب جس چیز کی ضرورت ہے وہ ادویات کی فراہمی ہے اس لئے کہ ان علاقوں سے متواتر یہ خبریں مل رہی ہیں کہ ادویات کی کمی ہے اور ان کی فوری ضروری ہے۔ حکومت اور ریاستی ادارے اپنی جگہ پر بہت کچھ کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ الخدمت، ٹی ایل پی، جے ڈی سی اور دیگر فلاحی تنظیمیں بھی میدان میں مصروف عمل ہیں اور میرے ذاتی علم میں ہے کہ بہت سے مخیر حضرات بھی اس حوالے سے اپنے طور پر کوششیں کر رہے ہیں لیکن جہاں بہت کچھ ہو رہا ہے تو وہیں پر مزید بہت زیادہ کرنے کی ضرورت بھی ہے اور جیسا کہ عرض کیا کہ متاثرین کو خاص طور پر ادویات کی فوری ضرورت ہے اور بہت بڑی مقدار میں ضرورت ہے لہٰذا پاکستانی اور ایک سچے مسلمان ہونے کے ناطہ ہمیں اپنے بھائیوں کی مدد کے لئے آگے آنا چاہئے کہ برا وقت تو کسی پر کسی بھی وقت آ سکتا ہے اور پھر بات صرف یہیں پر تو ختم نہیں ہو جاتی بلکہ لاکھوں گھر صفحہ ہستی سے مٹے ہیں انھیں بھی تو دوبارہ بنانا ہے کروڑوں لوگ جو گھروں سے بے گھر ہوئے ہیں انھیں دوبارہ گھروں میں بسانابھی تو ہے اور صرف بسانا ہی نہیں بلکہ انھیں ضروریات زندگی کے ساتھ ان گھروں میں آباد بھی تو کرنا ہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو آزمائش کی یہ گھڑی ابھی ختم نہیں ہوئی بلکہ ابھی اس کا دورانیہ طویل ہے اور ابھی تو جو فصلیں تباہ ہوئی ہیں ان کی وجہ سے اجناس کی بر وقت ترسیل میں کمی آ سکتی ہے کہ جس طرح گذشتہ دنوں پیاز اور ٹماٹر کے ساتھ ہوا ہے اس کا انتظام بھی کرنا ہے الغرض کہ جن پر یہ مصیبت نازل ہوئی ہے ان کے نقصان کا ازالہ تو شاید برسوں میں بھی پورا نہ ہو سکے لیکن جو روزی دیتا ہے اس کی ذات بڑی کریم ہے اور ہمیں امید ہے کہ کچھ بد خواہوں کی خواہشات کے بر عکس خدائے پاک قوم کو اس امتحان میں یقینا سر خرو کرے گا مالک کائنات سے دعا ہے کہ اس دوران مزید انسانی المیے جنم نہ لیں اور جو مصیبت میں مبتلا ہیں اپنے محبوب ﷺ کے صدقے ان کے لئے آسانیاں پیدا کرے۔ آمین۔

مصنف کے بارے میں