پاکستان نے دشمن کی طرف سے پیشگی حملے کی صورت میں جوابی جوہری حملے کی صلاحیت حاصل کرلی

پاکستان نے دشمن کی طرف سے پیشگی حملے کی صورت میں جوابی جوہری حملے کی صلاحیت حاصل کرلی

اسلام آباد: جوہری ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کے جوہری ہتھیاروں کا مقابلہ کیے بغیر پاکستان اپنی جوہری طاقت کو بہتر کرنے کیلئے اقدامات جاری رکھے گا۔


جینوا میں اقوام متحدہ کیلئے سابق پاکستانی سفیر ضمیر اکرام نے اسٹریٹجک ویژن انسٹی ٹیوٹ (ایس وی آئی) کی جانب سے منعقدہ ایک سیمنار سے خطاب کے دوران کہا کہ 'ہم اسے برابری کی بنیاد پر نہیں لے رہے، ہم اسے تناسب کے حوالے سے لے رہے ہیں، ہم اسے اپنے تحفظ کیلئے جوابی حملے کے طور پر دیکھ رہے ہیں'۔

سمینار کا موضوع 'ساؤتھ ایشیا نیوکلیئر ڈاکٹرائن: جوہری ہتھیاروں کا توازن اور اسٹریٹجک استحکام' تھا۔انھوں نے کہا کہ درست کام اور معتبر جوہری طاقت صرف جوابی حملے کی صلاحیت سے حاصل ہوسکتا ہے جو کہ تیار کرلیا گیا ہے'، انھوں نے نوٹ کیا کہ سب سے بڑی ضرورت اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ جوہری طاقت کیلئے کسی قسم کی تاخیر نہیں ہونی چاہیے، جس کے لیے 'مکمل سپیکٹرم ڈیٹرنس' کے نظریے کے تحت اقدامات جاری ہیں۔

ضمیر اکرام نے اس خوف کا اظہار کیا کہ بھارت پاکستان کو غیر مسلح کرنے کیلئے حملے میں پہل کی کوشش کرے گا۔ایم آئی ٹی اسکالر وی پن نارنگ اور دیگر بھارتی حکام کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'سب سے زیادہ جو ہم سن رہے ہیں (کہ بھارت ایسی صلاحیت حاصل کرنا چاہتا ہے جو پاکستان کو پہلے ہی حملے میں مکمل تباہ کرکے غیر مسلح کردے اور ہمارے جوہری اثاثے ختم کردے'۔

انھوں نے یہ زور دیا کہ یہ انکشاف پاکستانی حکمت عملی ترتیب دینے والوں کیلئے حیرت کی بات نہیں ہے جنھوں نے پہلے ہی اپنا منصوبہ اس خیال کے تحت بنایا تھا کہ بھارت ایسا کرنے کی کوشش کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'بھارت کی جانب سے محض زبانی عزم کی نشاندہی پر ہم نے اپنی جوہری اور دفاعی صلاحیت ترتیب نہیں دی'۔

سابق سفیر نے نشاندہی کی کہ بھارت کی جانب سے بڑے پیمانے پر فوجی ہتھیاروں کے حصول، عوام میں اس کی جانب سے پہلے جوہری ہتھیار استعمال نہ کرنے کی پالیسی، پاکستان کو غیر مسلح کرنے کیلئے حملے کا تعین، اور کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن جیسے خطرناک اور غیر مستحکم عقائد میں اس کی دلچسپی کے باعث خطے میں خطرات بڑھ گئے ہیں۔