بھارتی سپریم کورٹ کا داؤد ابراہیم کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم

بھارتی سپریم کورٹ کا داؤد ابراہیم کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم

نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ نے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے داؤد ابراہیم کی تمام املاک کو ضبط اور جائیداد کی قرقی کا حکم برقرار رکھا ہے۔


دائود ابراہیم کی والدہ امینہ بی اور بہن حسینہ ابرہیم پارکر کے وکیل کی جانب سے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای نے ٹیلی گرام پر اپنا چینل بند کر دیا

در خواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ مذکورہ جائیداد اور املاک ان کی ذاتی جائیداد ہے۔ داؤد ابراہیم سے اس کا تعلق نہیں جبکہ املاک کی ضبطی اور جائیداد کی قرقی غیر قانونی ہے لہذا غیر قانونی اقدام سے انتظامیہ کو روکا جائے۔

بھارتی عدالت کے جج آر کے اگروال نے داؤد ابراہیم کی والدہ امینہ بی اور بہن حسینہ ابراہیم پارکر کے وکیل کے موقف کو تسلیم نہیں کیا۔ عدالت کا فیصلے میں کہنا ہے کہ املاک اور جائیداد داؤد ابراہیم سے حاصل کی گئیں۔

مزید پڑھیں: شمالی کوریا نے میزائل ٹیسٹ سائٹ بند کرنے کا اعلان کر دیا

سپریم کورٹ نے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے مرکزی حکومت کو حکم دیا کہ داؤد ابراہیم کی تمام املاک و جائیداد ضبط کر لی جائیں۔

واضح رہے کہ یہ املاک اور جائیدادوں کی کل تعداد 7 ہے جو جنوبی ممبئی میں نگپدا کے علاقے میں واقع ہیں۔ ان میں 2 جائیدادیں داؤد ابراہیم کی والدہ امینہ بی کے نام ہیں جبکہ بقیہ 5 جائیدادیں داؤد ابراہیم کی بہن حسینہ ابراہیم پارکر کے نام ہیں۔ ان جائیدادوں کو بھارت کی وزارت مال نے تقریباً 12 کروڑ روپے میں فروخت کر دیا ہے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں