شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کو ہم سے بچھڑے 80 برس بیت گئے

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کو ہم سے بچھڑے 80 برس بیت گئے

لاہور: شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کا 80 واں یوم وفات آج پوری عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے مختلف علمی و ادبی اور ثقافتی تنظیموں کی طرف سے خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے جن میں شاعر مشرق کی شخصیت، ان کے فکر و فلسفہ اور ان کی تعلیمات پر روشنی ڈالی جائے گی۔


علامہ محمد اقبال 9 نومبر 1877 میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور یہیں سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے نے مشن ہائی اسکول سے میٹرک کیا اور مرے کالج سیالکوٹ سے ایف اے کے امتحان میں کامیابی حاصل کی۔ علامہ محمد اقبال کو بچپن میں ہی سید میر حسن جیسے استاد کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا تو ان کی طبیعت میں بھی تصوف، ادب اور فلسفے کا رنگ غالب آ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی برطانوی وزیراعظم تھریسامے سے ملاقات

انہوں نے اپنی اعلیٰ تعلیم انگلستان میں کیمبرج یونیورسٹی سے حاصل کی اور بعد میں فلسفہ میں جرمنی سے پی ایچ ڈی کی۔ علامہ اقبال پیشے کے اعتبار سے قانون دان تھے لیکن ان کی شہرت روح بیدار کرنے والی لازوال شاعری کی وجہ سے ہوئی جسے آج بھی پڑھا جاتا ہے۔

انہیں اردو سے لے کر فارسی اور انگریزی زبان پر ایسی گرفت حاصل تھی کہ ان کے الفاظ براہ راست دل پر اثر کر جاتے ہیں۔ ان کا شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا، یہی وجہ تھی کہ وہ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک آزاد ملک کا خواب دیکھا کرتے تھے۔

مزید پڑھیں: 'خیبر پختونخوا میں 20 امیدواروں کو نکالنے سے پارٹی کو فرق نہیں پڑے گا'

انہوں نے فارسی اور اردو زبان میں شاعری کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر کتابیں بھی لکھیں جن میں بال جبریل، بانگ درا، کلیات اقبال، مسجد قرطبہ، ذوق و شوق شامل ہیں۔ علامہ اقبال نے بچوں کے لیے بھی نطمیں لکھیں جن میں ایک پہاڑ اور گلہری، جگنو اور بچے کی دعا شامل تھیں۔

یاد رہے کہ علامہ محمد اقبالؒ 21 اپریل 1938 کو لاہور میں وفات پائی ان کو بادشاہی مسجد کے قریب سپرد خاک کیا گیا۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں