'جوڈیشل مارشل لاء ہمارے ذہن میں نہیں، کسی کے دل کی خواہش ہو سکتی ہے'

'جوڈیشل مارشل لاء ہمارے ذہن میں نہیں، کسی کے دل کی خواہش ہو سکتی ہے'

لاہور: چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ایوان اقبال لاہور میں یوم اقبال کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا پاکستان مستقل جدوجہد اور قربانیوں کا نتیجہ ہے کاش علامہ اقبال اور قائداعظم ابتدائی وقت میں ہوتے تو آج پاکستان کا یہ مستقبل نہ ہوتا۔ کتنے بدنصیب ہیں وہ لوگ جن کا اپنا ملک نہیں لیکن ہمیں اقبال اور قائد اعظم کی جدوجہد اور اللہ کی نوازش سے یہ ملک مل گیا۔


مزید پڑھیں: توقیر شاہ کی بیرون ملک تعیناتی کا نوٹس، آئندہ سماعت پر طلب

ان کا مزید کہنا تھا کہ تعلیم حاصل کرنے والی قومیں ترقی کر رہی ہیں لیکن پنجاب یونیورسٹی کی 80 گز اراضی کینال زمین گرڈ اسٹیشن کیلئے لی گئی اور میری نظر میں سب سے اہم چیز تعلیم ہے جبکہ تعلیم سے متعلق کسی چیز پر سمجھوتا نہیں کروں گا اور بچوں کو تعلیم دینے میں کوتاہی کرنے والے والدین مجرم ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے اپنے خطاب میں کہا کہ جن اسپتالوں کا دورہ کیا وہاں ایم آر آئی مشین نہیں اور خواتین کے الٹرا ساؤنڈ کے لیے خاتون ڈاکٹر کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ 1300 دوائیں اسپتال میں تقسیم کیلئے مفت دینے کی ٹیسٹنگ سہولت نہیں تھی۔

یہ بھی پڑھیں: راؤ انوار کو 2 مئی تک جوڈیشل ریمانڈپر جیل بھیج دیا گیا

انہوں نے کہا قائد اعظم کے ملک میں جمہوریت رہے گی لیکن اینکرز کہتے ہیں مارشل لا، مارشل لا، کسے لگانا ہے مارشل لا یہ ہمارے ذہن میں نہیں کسی کے دل کی خواہش یا اختراع ہو سکتی ہے تاہم جس دن مارشل لاء لگا اس دن عہدے چھوڑ دیں گے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں