کورونا پھیلاؤ، مزید پابندیوں کا فیصلہ متوقع

کورونا کی صورتحال تشویشناک ہوگئی ، بڑے بڑے شہر بند کرنا پڑیں گے ، اسد عمر

اسلام آباد:  وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و سربراہ این سی او سی اسد عمر نے کہا ہےکورونا کے بڑھتے کیسز کی وجہ سے نئی پابندیوں کا فیصلہ جمعہ کو کیا جائیگا۔ 

 اسد عمر نے عالمی وبا کی  سنگین صورتحال کے پیشِ نظر نئی بندشوں کا عندیہ دیتے ہوئے  کہا ہے کہ  صورتحال کنٹرول میں نہ ہوئی تو بڑے شہر بند کرنا پڑیں گے۔

این سی او سی اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اسد عمر نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ کورونا کی صورتحال انتہائی سنگین ہے، کراچی میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 13 اور حیدرآباد میں 14 فیصد پر آگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کی تیسری لہر میں اب تک سب سے زیادہ تعداد میں وینٹی لیٹر زیر استعمال ہیں، بڑے شہروں میں صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ این سی او سی میں کورونا صورتحال کا جائزہ لیا، صورتحال اچھی نظر نہیں آرہی، پچھلے سال قوم نے ایس او پیز پر عمل کیا، اس مرتبہ عمل نہیں ہورہا، قوم بھی عمل نہیں کررہی، انتظامیہ بھی کارروائی نہیں کررہی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ سندھ میں بھی کورونا کا پھیلاؤ بڑھ رہا ہے، روزانہ 600 مریض اسپتال پہنچ رہے ہیں،4500 سے زیادہ لوگ آکسیجن پر ہیں، گزشتہ سال جون میں 3400 لوگ آکسیجن پر تھے، رواں ہفتہ کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ کئی شہروں میں وینٹی لیٹرز کا استعمال 80 فیصد سے زیادہ ہے، آکسیجن بنانے کی گنجائش لاتعداد نہیں ہے، آکسیجن کی سپلائی چین بھی 90 فیصد بڑھ گئی ہے، کوششوں سے کورونا کے پھیلاؤ کو قدرے کچھ کم کیا ہے۔

این سی او سی کے سربراہ نے کہا کہ بھارت میں دو ماہ پہلے 14 ہزارکیس ہورہے تھے،کل پونے تین لاکھ سے زیادہ کیس ہوئے، بھارت میں کل دو ہزار سے زیادہ لوگ کورونا سے ہلاک ہوئے۔

اسد عمر نے کہا کہ صورتحال سنگین ہے، انتہائی سنجیدگی کی ضرورت ہے، اپنا خیال کریں، گھر والوں کا خیال کریں۔

انہوں نے کہا کہ کچھ نئے فیصلے کئے ہیں، جمعہ سے نئی بندوشوں کا آغاز کریں گے، کوئی چوائس نہیں رہ جائے گی، بڑے بڑے شہر بند کرنا پڑیں گے، ابھی بڑے شہر بند نہیں کررہے، چند دن کی گنجائش رہ گئی ہے ، صوبوں کی مدد کے لئے وفاق تیار کھڑا ہے۔