صوبہ سندھ میں بھی برطانوی کورونا وائرس کی تصدیق ہو گئی 

صوبہ سندھ میں بھی برطانوی کورونا وائرس کی تصدیق ہو گئی 
سورس: فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

کراچی: صوبہ سندھ کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے صوبے میں کورونا کی برطانوی قسم کے کیس رپورٹ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ وائرس بہت تیزی سے پھیلتا ہے اور زیادہ خطرناک ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق وزیر صحت عذرا پیچوہو کا کہنا ہے کہ کراچی میں کی جانے والی جینومیک سٹڈی کے مطابق 50 فیصد نمونوں میں کورونا کی برطانوی قسم کی تصدیق ہوئی ہے جو بہت تیزی سے پھیلتا ہے اور زیادہ خطرناک بھی ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ عید شاپنگ اور دیگر خریداری کے دوران رش کے اوقات میں وائرس تیزی سے پھیلنے کاخطرہ ہے جبکہ پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں اس وائرس سے متاثر ہونے کی وجہ سے بہت سی اموات ہوئی ہیں۔

دوسری جانب ملک میں کورونا سے مزید 148 افراد انتقال کرگئے اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے درمیان 5499 کیس رپورٹ ہوئے جبکہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے اس حوالے سے مزید پابندیوں کا عندیہ بھی دیدیا ہے۔ 

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اور این سی او سی کے سربراہ اسد عمر نے کہا ہے کورونا کے بڑھتے کیسز کی وجہ سے نئی پابندیوں کا فیصلہ جمعہ کو کیا جائے گا۔ انہوں نے عالمی وباءکی سنگین صورتحال کے پیش نظر نئی بندشوں کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ صورتحال کنٹرول میں نہ ہوئی تو بڑے شہر بند کرنا پڑیں گے۔

این سی او سی اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اسد عمر نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ کورونا کی صورتحال انتہائی سنگین ہے، کراچی میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 13 اور حیدرآباد میں 14 فیصد پر آگئی ہے، کورونا وباءکی تیسری لہر میں اب تک سب سے زیادہ تعداد میں وینٹی لیٹر زیر استعمال ہیں، بڑے شہروں میں صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ این سی او سی میں کورونا صورتحال کا جائزہ لیا اور صورتحال اچھی نظر نہیں آرہی، پچھلے سال قوم نے ایس او پیز پر عمل کیا مگر اس مرتبہ عملدرآمد نہیں ہورہا، قوم بھی عمل نہیں کر رہی اور انتظامیہ بھی کارروائی نہیں کر رہی۔ 

وفاقی وزیر نے کہا کہ سندھ میں بھی کورونا کا پھیلاؤ بڑھ رہا ہے، روزانہ 600 مریض ہسپتال پہنچ رہے ہیں، 4500 سے زیادہ لوگ آکسیجن پر ہیں، گزشتہ سال جون میں 3400 لوگ آکسیجن پر تھے، رواں ہفتہ کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کئی شہروں میں وینٹی لیٹرز کا استعمال 80 فیصد سے زیادہ ہے، آکسیجن بنانے کی گنجائش لاتعداد نہیں ہے، آکسیجن کی سپلائی چین بھی 90 فیصد بڑھ گئی ہے، کوششوں سے کورونا کے پھیلاؤ کو قدرے کچھ کم کیا ہے، صورتحال سنگین ہے اور انتہائی سنجیدگی کی ضرورت ہے، عوام اپنا اور اپنے گھر والوں کا خیال کریں۔