وزیراعظم عمران خان جلد سعودی عرب کا دورہ کریں گے، وزیر خارجہ کی تصدیق

وزیراعظم عمران خان جلد سعودی عرب کا دورہ کریں گے، وزیر خارجہ کی تصدیق
سورس:   فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

اسلام آباد: وفاقی وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم عمران خان جلد برادر ملک سعودی عرب کا اہم دورہ کریں گے اور مسلم امہ کیلئے سعودی عرب کی اہمیت سے سب اچھی طرح واقف ہیں۔ 

تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دورہ تہران کے دوران پاکستانی سفارتخانے میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ مجھے انشاءاللہ جلد وزیراعظم عمران خان کیساتھ سعودی عرب جانے کا موقع میسر آئے گا، مسلم امہ کیلئے سعودی عرب کی اہمیت سے سب واقف ہیں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ میری رائے میں پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور ایران جب مل کر ناموس رسالت ﷺ کے معاملے کو اٹھائیں گے تو مجھے یقین ہے کہ پوری امہ ایک نکتے پر متفق ہو جائے گی جبکہ سعودی وزیر خارجہ اور سعودی قیادت کے ساتھ بھی اس حوالے سے گفتگو ہوگی۔ 

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میں نے ایرانی پارلیمینٹ کے سپیکر کیساتھ بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کے رحجان پر گفتگو کی، مغرب میں جس طرح شدت پسند طبقہ اسلامو فوبیا کو ہوا دے رہا ہے ہمیں اس پر گہری تشویش ہے، ہم آزادی اظہار رائے کے خلاف نہیں اور اس کا تحفظ آئین بھی دیتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آزادی اظہار رائے کی آڑمیں کسی کی دل آزاری کی جائے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ آپ کے علم میں ہے کہ پچھلے دنوں کچھ ایسے بیانات اور خاکے سامنے آئے جس سے ناصرف ہماری بلکہ پوری مسلم امہ کی دل آزاری ہوئی، پاکستانی قوم ان گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے بعد شدید کرب اور دکھ سے گزری، پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے اور اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا ہے اور ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ ہم عالمی سطح پر اس کے خلاف آواز بلند کریں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں اسلاموفوبیا کے خلاف آواز اٹھائی، سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ ہمارا جو غلامی اور عشق کا دعویٰ ہے اس کا اظہار وزیر اعظم عمران خان صاحب نے اقوام متحدہ کے فلور پر کیا، مجھے اللہ تعالیٰ نے مسلم ممالک کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں موقع دیا کہ میں نے اسلاموفوبیا کے خلاف قرارداد پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کیا گیا، وہ قرارداد ہماری سوچ اور جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں بھی اس حوالے سے متفقہ طور پر قرار داد منظور ہوئی اور مجھے خوشی ہے کہ میرے جذبات، تاثرات اور خیالات کا احترام کیا گیا، ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر نے مجھ سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی پارلیمان کو بھی پاکستان کی مقننہ کی طرح اس پر آواز اٹھائی چاہیے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ میں نے تجویز دی کہ پاکستان اور ایران کے علما متفقہ طور پر اس یلغار کا دانشمندی سے مقابلہ کرنے کیلئے مل کر حکمت عملی بنائیں، ہم نے مشترکہ طور پر ایک سمت کا تعین کیا ہے، میں جلد ترکی جاؤں گا اور ترک وزیر خارجہ سے بھی اس حوالے سے تبادلہ خیال کروں گا، میں ترک صدر طیب اردگان اور وزیر خارجہ کے عقیدے سے واقفیت رکھتا ہوں، ان کی سوچ، ہماری سوچ سے مطابقت رکھتی ہے۔