کوئٹہ، سرینا چوک پرہوٹل کی پارکنگ میں دھماکا، 4 افراد جاں بحق

کوئٹہ، سرینا چوک پرہوٹل کی پارکنگ میں دھماکا، 4 افراد جاں بحق
کیپشن:   کوئٹہ، سرینا چوک پرہوٹل کی پارکنگ میں دھماکا، 3 افراد جاں بحق سورس:   فوٹو/اسکرین گریب نیو نیوز

کوئٹہ: امن دشمنوں نے ایک بار پھر کوئٹہ کو نشانہ بنایا ہے اور زرغون روڈ سرینا چوک پر نجی ہوٹل کی پارکنگ میں دھماکا ہوا ہے۔ دھماکے کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق اور 12  زخمی ہو گئے۔

تفصیلات کے مطابق زرغون روڈ سرینا چوک پر نجی ہوٹل کی پارکنگ میں دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق اور 12   زخمی ہوئے ہیں۔زخمیوں میں اسسٹنٹ کمشنر ریونیو کوئٹہ اعجاز احمد اور اسسٹنٹ کمشنر جعفر آباد بلال شبیر بھی شامل ہیں۔

دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ایف سی سمیت امدادی ٹیم کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہے ۔سیکیورٹی فورسز نےعلاقے کو گھیرے میں لے لیا اور دھماکے کی نوعیت معلوم کی جا رہی ہے. امدادی ٹیموں نے زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کر دیا ہے جہاں پر ان کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔ 

وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان نے کوئٹہ کے نجی ہوٹل کی پارکنگ میں ہونے والے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ۔

وزیراعلی نے دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی اور دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے پوری قوم متحد ہے۔

وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کوئٹہ میں نجی  ہوٹل کی پارکنگ میں ہونیوالے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے چیف سیکرٹری بلوچستان سے واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی۔  شیخ رشید نے بتایا کہ چینی سفیر بھی اسی ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے لیکن دھماکے کے وقت وہ ہوٹل میں موجود نہیں تھے جبکہ دہشتگردی کے اس واقعے میں پڑوسی ملک ملوث ہے۔ 

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ وفاقی وزارت داخلہ حکومت بلوچستان کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور ابتدائی تحقیقات کی جا رہی ہیں جیسے ہی دھماکے کی نوعیت اور نقصانات کا تعین ہو گا حکومت بیان جاری کرے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے اپنی بزدلانہ کارروائیوں کے لیے مقامی ہوٹل کو نشانہ بنایا جبکہ حکومت کے احسن اقدامات سے بہت حد تک دہشت گردی پر قابو پایا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ 

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ 23 مارچ کو چمن میں ایک بم دھماکے میں کم از کم تین افراد جاں بحق اور 13 زخمی ہو گئے تھے۔  چمن کی معروف شاہراہ تاج روڈ پر یہ دھماکا اس وقت ہوا جب پولیس کی ایک گاڑی وہاں سے گزر رہی تھی۔ اس گاڑی میں چمن پولیس کے ایس ایچ او مقصود احمد سفر کر رہے تھے ۔

مقصود احمد نے میڈیا کو بتایا تھا کہ نامعلوم افراد نے ایک موٹر سائیکل پر دھماکہ خیز مواد نصب کر کے اسے تاج روڈ پر لیویز فورس کے ہیڈکوارٹر کے قریب کھڑا کیا تھا۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال 25 اکتوبر کو صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں دھماکے کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق جبکہ 10 زخمی ہو گئے تھے۔ اس سے قبل 14 اکتوبر کو کوئٹہ کے اسمنگلی روڈ پر دستی بم سے حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں 7 افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

اگست کے مہینے میں صوبہ بلوچستان کے علاقے چمن کے مال روڈ پر دھماکے کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق اور 14 زخمی ہو گئے تھے جبکہ جولائی میں بلوچستان کے شہر تربت کے بازار میں دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ 7 زخمی ہو گئے تھے۔

مئی کے مہینے میں بلوچستان میں ایک بم دھماکے اور عسکریت پسندوں سے فائرنگ کے تبادلے میں ایک جونیئر کمیشنڈ افسر سمیت 7 جوان شہید ہو گئے تھے۔