اسپاٹ فکسنگ کیس، خالد لطیف حتمی تحریری دلائل دینے پر آمادہ

اسپاٹ فکسنگ کیس، خالد لطیف حتمی تحریری دلائل دینے پر آمادہ

لاہور: پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کے دوران اسپاٹ فکسنگ کیس کے باعث معطل ہونے والے کرکٹر خالد لطیف حتمی دلائل دینے پر آمادہ ہو گئے۔ معطل کرکٹر خالد لطیف کے وکیل بدر عالم نے اینٹی کرپشن ٹریبونل کو جمع کرائے جانے والا جواب تیار کر لیا جس میں خالد لطیف نے اپنے پرانے مؤقف کو دہرایا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریری جواب میں خالد لطیف کا مؤقف ہے کہ ٹریبونل کی کارروائی قانون کے مطابق نہیں رہی اور ٹریبونل میں گواہان سے جرح نہیں کرنے دی گئی۔


دوسری جانب پی سی بی کے اینٹی کرپشن ٹریبونل نے خالد لطیف کو 22 اگست تک دلائل جمع کرانے کی ہدایت کی ہے جب کہ خالد لطیف نے 2 مرتبہ دلائل جمع کرانے کے لیے مہلت طلب کی تھی۔

یاد رہے کہ 31 مارچ کو پی سی بی کے ٹریبونل نے خالد لطیف پر باقاعدہ فرد جرم عائد کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن کوڈ کی 6 شقوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

پی سی بی کی جانب سے ملنے والی چارج شیٹ کا وکیل کے ذریعے جواب دیتے ہوئے خالد لطیف نے میچ فکسڈ کرنے، پیسے لینے اور میچ میں سودی بازی کے الزام کو مسترد کیا البتہ بکیز سے رابطہ کرنے پر ٹیم مینجمنٹ کو آگاہ نہ کرنے کی غلطی کا اعتراف کیا تھا۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں