قطر ی عازمین حج کے لیے سلویٰ بارڈر کراسنگ پر سعودی انتظامات کی تعریف

قطر ی عازمین حج کے لیے سلویٰ بارڈر کراسنگ پر سعودی انتظامات کی تعریف

دوحہ:قطر سے تعلق رکھنے والے متعدد عازمین حج نے سلویٰ کی گذرگاہ کے ذریعے سعودی سرزمین پر پہنچنے پر اپنی بے پایاں خوشی کا اظہار کیا ہے اور وہاں سعودی حکومت کی جانب سے کیے گئے انتظامات کو سراہا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق قطر ی عازمین کا سعودی علاقے میں پہنچنے پر پرتپاک خیرمقدم کیا گیا ہے۔


انھوں نے بتایا کہ انھیں پاسپورٹ لاونج اور دوسری ضروری دفتری کارروائی کے دوران میں کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے اور وہاں ان کے تمام امور بڑی جلدی میں نمٹا دیے گئے ۔عرب ٹی وی کے مطابق سلویٰ بارڈر کراسنگ پر متعدد قطری عازمین سے بات چیت کی ہے اور ان سے ان کے خیالات جاننے کی کوشش کی ہے۔

ان میں ایک قطری علی بن مسعود المری نے کہا کہ انھیں اس سال حج کے لیے زمینی راستے سے سعودی عرب پہنچنے پر بڑی خوشی ہورہی ہے اور وہ اس کو الفاظ میں بیان نہیں کرسکتے ہیں۔انھوں نے مزید بتایا کہ انھیں دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر کسی دشواری یا رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے ۔

انھوں نے اللہ سے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی درازیِ عمر کی دعا کی اور سعودی اور قطری عوام کے درمیان اتحاد اور بھائی چارے کی ضرورت پر زوردیا۔ایک اور قطری عازم حج عبید جابر نے بھی سلویٰ کی گذرگاہ پر سعودی عرب کی جانب سے مہیا کی جانے والی سہولتوں کو سراہا ہے ،سعودی مملکت کے لیے اپنی محبت کا اظہار کیا ہے اور فریضہ حج کی ادائی کے لیے آمد پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔

سالم بن راشد المری نے بھی سلویٰ کراسنگ پر سعودی ملازمین کے کام کی تعریف کی ہے اور کہا کہ انھوں نے بڑی تیزی سے تمام امور نمٹا دیے تھے اور وہاں کسی رکاوٹ یا تاخیر کا سامنا نہیں ہوا ہے۔انھوں نے اپنی گفتگو میں یہ بات زور دے کر کہی کہ قطری اور سعودی آپس میں بھائی بھائی ہیں اور دونوں ممالک کے عوام میں ایک دوسرے کے لیے نیک جذبات پائے جاتے ہیں۔