جسم دل کے دورے سے ایک ماہ قبل خبردار کرتا ہے

جسم دل کے دورے سے ایک ماہ قبل خبردار کرتا ہے

لندن : انسان کا جسم دل کے دورے سے ایک ماہ قبل بلکہ اس سے بھی پہلے خبردار کرنا شروع کردیتا ہے۔


برطانوی طبی ماہرین نے کہا ہے کہ تھکاوٹ ایسی علامت ہے جو  70 فیصد ہارٹ اٹیک کی شکار خواتین میں کئی ہفتے پہلے ہونا شروع ہو جاتی ہے، غیر معمولی حد تک جسمانی تھکاوٹ ہارٹ اٹیک کی جانب سے اشارہ کرتی ہے اور مرد و خواتین دونوں میں یہ نظر آسکتی ہے۔ اگر یہ تھکاوٹ کسی جسمانی یا ذہنی سرگرمی کا نتیجہ نہ ہو اور دن کے اختتام پر اس میں اضافہ ہو، تو اس پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے۔

50 فیصد ہارٹ اٹیک کے واقعات میں پیٹ درد کی علامت کچھ عرصے پہلے سامنے آئی، معدے میں درد، دل متلانا، پیٹ پھولنے یا موشن وغیرہ متعدد عام علامات ہیں۔ہارٹ اٹیک سے قبل پیٹ یا معدے میں درد کچھ عجیب سا ہوتا ہے، یعنی کبھی ہوتا ہے اور پھر آرام محسوس ہونے لگتا ہے۔مردوں کے مقابلے میں خواتین میں بے خوابی کی شکایت زیادہ نظر آتی ہے جسے طبی ماہرین ہارٹ اٹیک یا فالج وغیرہ کے بڑھتے خطرے کا عندیہ قرار دیتے ہیں۔ رات کو نیند نہ آنے کے ساتھ شدید نوعیت کی ذہنی بے چینی اور غیر حاضر دماغی کا سامنا ہو تو یہ تشویشناک ہوسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق 40 فیصد کیسز میں سانس کا گھٹنا جیسی علامت سامنے آتی ہے، یعنی سانس لینے میں مشکل یہ مردوں اور خواتین کے اندر ہارٹ اٹیک سے 6 ماہ قبل بھی اکثر سامنے آتی ہے، یہ عام طور پر ایک انتباہی علامت ہوتی ہے کہ ڈاکٹر سے رجوع کیا جانا چاہیے۔اس کے علاوہ بالوں کا تیزی سے گرنا بھی امراض قلب کی ایک واضح علامت ہے۔

عام طور پر یہ 50 سال سے زائد عمر کے مردوں میں زیادہ نظر آتی ہے مگر کچھ خواتین میں بھی یہ سامنے آتی ہے۔دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی اکثر پینک اٹیک اور ذہنی بے چینی کے ساتھ حملہ آور ہوتی ہے، خاص طور پر خواتین میں، یہ اچانک حملہ کرتی ہے۔

اگر دل کی دھڑکن میں تیزی ایک سے دو منٹ تک برقرار رہے اور اس میں کمی نہ آئے، اس کے علاوہ دھڑکن کی رفتار میں کمی بیشی سے غشی اور تھکاوٹ کا محسوس ہونا اس بات کی علامت ہے کہ ڈاکٹر سے رجوع کرلینا چاہیے۔غیرمعمولی یا بہت زیادہ پسینہ آنا بھی ہارٹ اٹیک کی ایک ابتدائی انتباہی علامت ہے۔

نیوویب ڈیسک< News Source