ماں میری آنکھ کا تارا ہے،چینی شخص نے سعادت مندی کی مثال قائم کر دی

ماں میری آنکھ کا تارا ہے،چینی شخص نے سعادت مندی کی مثال قائم کر دی

چین میں ایک سعادت مند بیٹے نے بوڑھے والدین کی خدمت کی انوکھی مثال قائم کر دی۔مشرقی صوبے ڑی جیانگ کے رہائشی سکیورٹی گارڈلو چن کئی کی 84سالہ والدہ الزائمرز کے ذہنی مرض کی شکار ہیں۔بوڑھی خاتون اکثر پہاڑوں پر جلانے کے لیے لکڑیاں اکٹھی کرنے چلی جاتی تھیں اور کئی بار ایسا ہوا کہ وہ اندھیرا ہو جانے کے باعث وہاں گم ہو گئیں۔


ان مسائل سے پریشان ہو کر لوچن نے والدہ کو ہر وقت ساتھ رکھنے کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنی بوڑھی ماں کو ہر روز موٹرسائیکل پر بٹھا کر اپنے ساتھ کام پر لے جاتا ہے تاکہ وہاں ان کی خدمت کر سکے اور اس کی غیر موجودگی میں گھر میں رہتے ہوئے بوڑھی والدہ کو کوئی تکلیف نہ ہو۔

جب ا س سال کے آغاز میں لو چن کے والد کا انتقال ہوا تو اس نے اپنی والدہ کو اپنے ساتھ کام پر لیجانا شروع کر دیاکیونکہ اس کے سوا اس کی والدہ کا خیال رکھنے والا کوئی نہیں تھا۔ وہ ہر روز والدہ کواپنے پیچھے موٹر سائیکل پر بٹھاتا اور ایک کپڑے سے اس کو اپنے ساتھ باندھ لیتا ہے تاکہ وہ گر نہ جائیں۔

مسٹر لوچن کا کہنا ہے کہ وہ کام پر جاتے ہوئے اپنی والدہ کی حفاظت کی غرض سے موٹر سائیکل اس قدر آہستہ چلاتا ہے کہ 4کلومیٹر کا سفر ایک گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔ اس تمام وقت میں وہ اپنی والدہ کے ساتھ گفتگو کرتا رہتا ہے۔

وہ جس بینک کا سکیورٹی گارڈ ہے ان کی طرف سے اسے ایک کمرہ دیا گیا ہے جہاں وہ اپنی والدہ کو بٹھا دیتا ہے اور دن بھر ان کی دیکھ بھال کرتا رہتا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اس کی والدہ نے ساری زندگی اپنے بچوں کی دیکھ بھال میں گزار دی ، اب یہ اس کا فرض ہے کہ وہ اپنی والدہ کی دیکھ بھال کرے۔

اس نے کہا کہ بچپن میں میں اپنی ماں کی آنکھ کا تارہ تھا، اب وہ میری آنکھ کا تارہ ہیں۔جب ہم چھوٹے تھے تو ہماری ماں فارم میں کام کرتی تھیں اور وہ اسی طرح ہمیں اپنی موٹرسائیکل پر بٹھا کر اپنے ساتھ کام پر لے جایا کرتی تھیں۔ اس نے کہا” ہر وقت اپنی والدہ کو دیکھتے رہنے سے میں پر سکون رہتا ہوں کیونکہ مجھے ان کے کھو جانے کا خوف لاحق ہے۔“