شہباز شریف پر منی لانڈرنگ کے الزامات، چین نے کمپنی بلیک لسٹ کر دی

شہباز شریف پر منی لانڈرنگ کے الزامات، چین نے کمپنی بلیک لسٹ کر دی

لاہور: وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف پر مبینہ منی لانڈرنگ کے الزامات کی وجہ بننے والی چینی کمپنی جیانگسو یابائٹ لمیٹڈ کے فراڈ کا ڈراپ سین ہو گیا۔ کمپنی کو چین میں ہمیشہ کے لیے بلیک لسٹ کر دیا گیا اور اس کے مالک کو سخت سزائیں سُنا دی گئیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 17 دسمبر کو یابائٹ کمپنی کے مالک نے کمپنی کی آفیشل ویب سائٹ پر معافی نامہ شائع کیا جس میں اعتراف کیا گیا ہے کہ انہوں نے عوام سے فراڈ کیا جس کے نتیجے میں ملنے والی سزا اور مارکیٹ میں داخلے پر تا حیات پابندی کے فیصلے کو قبول کر لیا ہے۔

چینی سفارتی مشن کے ڈپٹی چیف مسٹر لیجیان ژاؤ نے تصدیق کی کہ چین کے ریگولیٹری ادارے سی ایس آر سی نے اپنا فیصلہ جاری کر دیا ہے اور یابائٹ کے مالک کا معافی نامہ بھی اصلی ہے۔ انہوں نے کہا یہ چینی کمپنی فراڈ میں ملوث رہی ہے جس کے متعلق چینی دفتر خارجہ پہلے ہی وضاحت جاری کر چکا ہے۔

چینی کمپنی کا فراڈ اُس وقت سامنے آیا جب پاکستانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مبینہ طور پر منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں۔ ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ شہباز شریف نے چینی کمپنی کے ذریعے کک بیکس کی بڑی رقم چین بھیجی ہے۔ تاہم وزیراعلیٰ پنجاب نے ان میڈیا رپورٹس کی سختی سے تردید کی اور جھوٹی خبر شائع کرنے والے اداروں کو قانونی نوٹسز بھی بھجوائے۔

بعدازاں مبینہ منی لانڈرنگ کا یہ کیس ایس ای سی پی نے ایف آئی اے کو بھجوایا اور اب نیب نے ملتان میٹرو بس منصوبے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ غیر قانونی طور پر رقوم کی مبینہ منتقلی کی تحقیقات کو حتمی نتیجے تک پہنچایا جا سکے۔

سی ایس آر سی نے 15 دسمبر2017ء کو ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ اس نے یابائٹ کو 6 لاکھ یوان اور اس کے مالک کو 3 لاکھ یوان جرمانہ کیا ہے جبکہ چینی ریگولیٹری ادارے نے اس کمپنی کے سیکیورٹیز مارکیٹ میں داخلے پر بھی تاحیات پابندی لگا دی ہے۔

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں