نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا اجلا س ، دشمن ممالک کی سازشوں پر اظہار تشوش

نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا اجلا س ، دشمن ممالک کی سازشوں پر اظہار تشوش

اسلام آباد: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا اجلاس ہوا جس میں پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے والے ہمسایہ ملک کی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔


پاک فوج کے ذرائع عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی، چیف آف سیئر اسٹاف، چیف آف نیول سٹاف، وزیر داخلہ احسن اقبال سمیت دیگر اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران نیشنل اسپیس پروگرام 2047 اور نیوکلیئر پاور پروگرام پر بھی بریفنگ دی گئی۔شرکاءنے اتفاق کیا کہ بڑے پیمانے پر اسلحہ بنانا اور خطےکو جوہری بنانا عدم استحکام کا باعث ہے۔شرکائنے جوہری سیکیورٹی نظام کے مکمل محفوظ ہونے پر اطمیان کا اظہار کی اور کہا کہ پاکستان اپنے تحفظ کے لیے کم سے کم دفاعی صلاحیت برقرار رکھے گا۔

اجلاس میں نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا کہنا ہے اسٹریٹجک فورسز ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں، اور کہا گیا کہ پاکستان کی جوہری تنصیبات کے تحفظ کے لیے جامع اور فول پروف سیکیورٹی نظام موجود ہے، پاکستان ذمہ دار ریاست کے طور پر جوہری عدم پھیلاو¿ کے عالمی قوانین کی پاسداری اور انہیں موثر بنانے میں کردار اداکرتا رہے گا۔

آئی ایس پی آر نے کے مطابق کہ پاکستان کے ایکسپورٹ کنٹرول اقدامات بین الاقوامی قوانین کے مطابق جامع ہیں، پاکستان این ایف جی سمیت ایٹمی عدم پھیلاو¿کے کئی اداروں کی سند رکھتا ہے، پاکستان چاہتا ہے اس کے ساتھ غیرجانبدارانہ برتاو¿ روا رکھا جائے۔نیشنل کمانڈ اتھارٹی نے نیشنل اسپیس پروگرام2047 اور نیوکلیئر پاور پروگرام کی منظوری بھی دے دی، دونوں پروگرام نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے پرامن اور بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہیں۔

اجلاس میں کہا گیا کہ پاکستان اپنے دفاع کے لیے کم سے کم دفاعی صلاحیت برقرار رکھے گا۔پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے والے ہمسایہ ملک کی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار بھی کیا گیا۔ہمسایہ ملک کی جانب سے بڑے پیمانے پر اسلحہ کی تیاری، بحرہند کو جوہری بنانا، بیلسٹک میزائل کی تیاری اور تنصیب جنوبی ایشیا میں اسٹریٹجک عدم استحکام پیدا کررہا ہے۔

اجلاس میںنیشنل کمانڈ اتھارٹی نے پاکستان کے نئے میزائل بابر تھری اور میزائل سسٹم ابابیل کے کامیاب تجربے کو سراہا۔اتھارٹی نے کہا پاکستان خطے میں پرامن بقائے باہمی کا خواہش مند ہے اور جنوبی ایشیا میں اسٹریٹجک استحکام کے لیے ہمسایوں سے مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔نیشنل کمانڈ اتھارٹی نے صحت، زراعت، ادویات اور انڈسٹری کے شعبوں میں ایٹمی ٹیکنالوجی کے استعمال کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر اس حوالے سے تعاون بڑھانا چاہتا ہے۔ اس سے پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔