جدہ میں پہلے کامک میلے کی دھوم یورپ تک پہنچ گئی

جدہ میں پہلے کامک میلے کی دھوم یورپ تک پہنچ گئی

جدہ:سعودی عرب کو دنیا بھر میں سخت اسلامی قواعد و ضوابط کی وجہ سے جانا جاتا ہے ۔مگر اب سعودی عرب بدل رہاہے ۔سعودی عرب نے جب سے اپنا ویژن 2030کا اعلان کیا ہے سعودی عرب کا نیا روپ دیکھنے میں آ رہا ہے ۔


اسی سلسلے کی ایک کڑی گزشتہ روز جدہ میں دیکھنے میں آئی ہے جدہ میں 3 روزہ کامک میلے کا اہتمام کیا گیا، جس میں مرد و خواتین ایک ساتھ نظر آئے۔

سعودی عرب کے بندرگاہی شہر جدہ  میں ہونے والے  ’کامک کان‘ میلے میں پہلی بار خواتین بھی مردوں کے ساتھ میلے میں شریک ہوئیں، یہ فیسٹیول سعودی عرب کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا فیسٹیول تھا۔

پہلا کامک کان فیسٹیول سعودی حکومت کے وژن 2030 کا حصہ ہے، جس کے تحت حکومت نے جدید دور کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے وہاں کی بڑھتی ہوئی نوجوان آبادی کے لیے قدرے روشن خیال اور انٹرٹینمنٹ کے پروگرام شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔

سعودی عرب کے نائب شہزادے محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے ثقافت کی ترویج کے لیے 2015 کے آخر میں وژن 2030 کے تحت سعودی معاشرے میں ثقافتی بہتری لانے کا اعلان کیا تھا۔

وژن 2030 کا منصوبہ بڑھتی ہوئی آبادی کو روزگار فراہم کرنا اورسعودی معاشرے کی قدرے محدود زندگی کو وسیع بنانا ہے، جس کے مطابق ’سعودی عرب کے باشندوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے انٹرٹینمنٹ اور ثقافت کی بہتری ناگزیر ہے‘۔ کامیاب کامک میلے کے انعقاد کی دھوم یورپ تک پہنچ گئی ہے ۔