ولی کی اجازت کے بغیر شادی،سوڈان میں نیا تنازع کھڑا ہو گیا

نیا ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش،پاس ہونے کی صورت میں لڑکی ،لڑکا قانونی عمر کو پہنچے کے بعد شادی کرسکیں گے

ولی کی اجازت کے بغیر شادی،سوڈان میں نیا تنازع کھڑا ہو گیا

خرطوم:سوڈان میں ان دنوں ایک آئینی ترمیم کے منصوبے کے حوالے سے شدید تنازع کھڑا ہو گیا۔ اس ترمیم کے نتیجے میں نوجوان لڑکا اور لڑکی قانونی عمر کو پہنچنے کے بعد ولی کی اجازت کے بغیر شادی کر سکیں گے۔


غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سوڈان میں 2005 کے آئین میں مجوزہ ترمیم کو بحث کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کر دیا گیا ۔ اس میں آزادی عامہ ، سیاسی اور جماعتی سرگرمیوں اور خواتین اور بچوں کے حقوق سے متعلق قانونی مواد شامل ہے۔ تاہم شادی کے حوالے سے شامل تجاویز سماجی سطح پر متنازع شکل اختیار کر گئی ہیں۔

سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک پر سرگرم حلقوں میں یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا سوڈان میں نوجوان اس ترمیم کو قبول کریں گے یا مکمل طور پر مسترد کر دیں گے۔ موجودہ طریقہ کار میں ولی اور گواہوں کی موجودگی لازمی ہوتی ہے۔