انکوائری کے دوران کوئی گرفتار ہو سکتا ہے تو وزیراعظم کو بھی کریں، سعید غنی

انکوائری کے دوران کوئی گرفتار ہو سکتا ہے تو وزیراعظم کو بھی کریں، سعید غنی
نیب ایجنڈے پر کام کر رہا ہے اور غیر قانونی حراست پر چیئرمین نیب کا ضمیر نہیں جاگتا، سعید غنی۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

 کراچی: کراچی کی احتساب عدالت میں اسپیکر اسمبلی آغا سراج درانی کی متوقع پیشی کے موقع پر پیپلز پارٹی کے کئی رہنما وہاں پہنچے جن میں سعید غنی بھی شامل تھے۔


اس موقع پر پیپلز پارٹی کے رہنما اور وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ احتساب کے نام پر تماشا ہو رہا ہے اور اگر انکوائری اسٹیج پر آغا سراج درانی گرفتار ہو سکتے ہیں تو وزیراعظم کو بھی گرفتار کیا جائے۔ نیب ایجنڈے پر کام کر رہا ہے اور غیر قانونی حراست پر چیئرمین نیب کا ضمیر نہیں جاگتا۔ لگتا ہے کہ نیب بنی ہی پیپلز پارٹی والوں کے لیے ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ سب کے ساتھ یکساں رویہ رکھا جائے اور اس ملک میں ایک قانون ہے اور آئین ہے۔ مجھے بتایا جائے پنجاب کے کون سے کیس کا ٹرائل سندھ میں ہو رہا ہے۔ کچھ کہتے ہیں تو کہا جاتا ہے سندھ کارڈ استعمال کیا جا رہا ہے۔

وزیر بلدیات سندھ نے کہا کہ ہماری جان نہیں چھوڑی جا رہی اور ملک سے وفاداری کی سزا دی جا رہی ہے۔ اگر کسی کے اہلخانہ کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے تو پرویز خٹک اور علیم خان کے اہلخانہ کے ساتھ بھی کریں۔

انہوں نے کہا کہ آغا سراج درانی مفرور تھے اور نہ وہ نیب کے چھاپوں سے بھاگ رہے تھے۔ یہ تاثر کیوں پیدا کر رہے ہیں کہ سندھ کے خلاف کارروائیاں راولپنڈی اور اسلام آباد سے کی جا رہی ہیں۔ ہم حکمرانوں کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سعید غنی نے سوال کیا کہ کیا کسی پی ٹی آئی والے کے گھر پر بھی ایسا چھاپہ مارا گیا۔ وزیروں کو کون اطلاع دیتا ہے کہ پیپلزپارٹی کی گرفتاریاں ہونے جا رہی ہیں جب کہ علیم خان کی گرفتاری ایک ڈراما ہے۔