امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کی تیاری

امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کی تیاری

یروشلم :سوشل میڈیا پر جاری وڈیو میں میئر نیر برکت کا کہنا تھا کہ گزشتہ آٹھ سالوں میں امریکی صدر اوباما نے یہودی ابادکاری کو رکوایا، اسلام کے انتہاپسندوں اور ایران کے آگے ہتھیار ڈال دیے اور اسرائیل کو اقوام متحدہ کی قرارداد کے ذریعے یرغمال بنادیا لیکن اب نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آ


رہے ہیں، وہ ہمارے دوست ہیں ہم انہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔

یروشلم اسرائیل کا غیر منقسم دارالحکومت ہے۔دوسری جانب فلسطین کے شہروں رام اللہ اور نابلوس میں سیکڑوں فلسطینیوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف دھرنے دیے۔دھرنے کے شرکاءنے مقدس شہر کی تصاویر اور ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف نعروں پر مبنی بینرز اٹھا رکھے تھے۔

تنظیم فتح کی سینٹرل کمیٹی کے رکن جمال محسن کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کا یہ فیصلہ جانب دارانہ اور امن عمل کے خلاف ہے، اس فیصلے کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔فلسطینی تنظیم انی شی ایٹو پارٹی کے سیکریٹری جنرل مصطفیٰ البرغوثی کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام کو امریکی فیصلے کے خلاف باہر نکلنا ہوگا۔