پاکستان کے تعلیمی ادارے منشیات کا گڑھ بن گئے

پاکستان کے تعلیمی ادارے منشیات کا گڑھ بن گئے

اسلام آباد:گذشتہ کئی ماہ سے پاکستان کے تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کی رپورٹس مسلسل منظر عام پر ا ٓرہی ہیں،خاص طور پر وفاقی دارحکومت کے تعلیمی ادارے منشیات کا گڑھ بن چکے ہیں ۔اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے نے پاکستان میں 76 لاکھ لوگوں کے منشیات استعمال کرنے کا انکشاف کیا ہے ۔ جن میں 78 فیصد مرد اور 22 فیصد خواتین ہیں۔ پریشان ک±ن بات یہ ہے کہ 76 لاکھ لوگوں کی بڑی تعداد 24 سال سے کم ع±مر افراد کی ہے۔

تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کا معاملہ ایک غیر سرکاری تنظیم ساسی کی جانب سے قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں بھی ا±ٹھایا گیا۔

یہ بات کس حد تک درست ہے کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کا استعمال عام ہے، اس بات میں صداقت کا تب علم ہوا جب پاکستان کی ایک نامور یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والے نے خبر رساں سے بات کرتے ہوئے یہ بتایا کہ وہ لمبے عرصے سے منشیات کا استعمال کر رہے ہیں انہیں شراب اور چرس باآسانی یونیورسٹی میں ہی مہیا کر دی جاتی ہے۔

بہت سارے تعلیمی ادارے کا سکیورٹی پر مامور عملہ ہی بچوں کو منشیات فراہم کرنے میں ملوث پایا گیا ہے،سوال یہ مستقبل کے ان معماروں کے مستقبل کو بچانے کے لیے حکومت کیا اقدامات اُٹھا رہی ہے؟

مصنف کے بارے میں