نقیب کا قتل،راؤ انوار کو معطل کرنا کوئی سزا نہیں،31 جنوری کو گرینڈ جرگہ کریں گے،سراج الحق

نقیب کا قتل،راؤ انوار کو معطل کرنا کوئی سزا نہیں،31 جنوری کو گرینڈ جرگہ کریں گے،سراج الحق

کراچی: نقیب اللہ محسود کے مبینہ پولیس مقابلے میں قتل کئے جانے کے بعد امیر جماعت اسلام سراج الحق نے کہا ہے کہ ایسی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں جس سے نقیب کے اہلخانہ مطمئن ہوجائیں،انہوں نے کہا کہ راؤانوار کو معطل کرنا کوئی سزا نہیں ہے،31 جنوری کو کراچی کے تمام مظلوم افرادکیلئے عظیم الشان جرگے کااعلان کرتے ہیں،جب تک واقعے کی جوڈیشل انکوائری نہ کرائی جائے کسی اور پراعتماد نہیں کرینگے۔


تفصیلات کے مطابق کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پھٹ پڑے اور راؤ انوار کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ راؤانوار اتنا ہی بہادر ہے تو اس کو بارڈر پر بھیجا جائے،کراچی کا ہر شخص راؤ انوار کو قاتل کہتاہے،نقیب اللہ محسود کا جرم کیاتھا،حکومت کو نقیب اللہ کی ہلاکت کا جواب دینا ہوگا،لوگوں کو ماورائے عدالت قتل کرنا راؤ انوار کا پیشہ ہے،لوگوں کو گاڑیوں میں ڈال کر قتل کرنا کہاں کا قانون ہے؟۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پورے ملک میں جنگل کا قانون ہے،کوئی بھی محفوظ نہیں ہے،تعداد پوری کرنے کے لیے بے گناہ افرادکو قتل کیاجاتا ہے،قاتلوں کیساتھ قاتلوں والا سلوک نہ ہوا تو سمجھیں گے اصل قاتل وزیراعلیٰ ہے،ہم ڈرنے اور جھکنے والے نہیں، پاکستان کے ہر مظلوم کے ساتھ ہیں۔

سراج الحق نے کہا کہ جرائم کی دنیا میں رہنے والا شخص غاروں میں رہتا ہے،سوشل میڈیا پر نہیں،یہ صرف محسود قبیلے کا نہیں ہر پاکستانی کا مسئلہ ہے،جس شخص کے ہاتھوں پر 424 افراد کا قتل ہے اسے عدالت میں دیکھنا چاہتے ہیں،معطلی اور ٹرانسفر معمول کی کارروائی ہے جبکہ نقیب اللہ کے بیہمانہ قتل پر پوری قوم افسردہ ہے،31 جنوری کو گرینڈ جرگہ ہوگا جس میں تمام قومیت کے لوگ شرکت کرینگے۔

واضح رہے کہ کراچی میں نقیب اللہ محسود کومبینہ پولیس مقابلے میں قتل کردیا گیا تھا جس کے بعد ملک بھر میں اس کیخلاف احتجاج کیا گیا جبکہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں نقیب کو بے گناہ قرار دینے کے بعد راؤ انوار کو معطل کردیا گیا تھا۔