ہاں میرا بھی ایک خواب ہے

Ehtesham Arshad Nizami, Pakistan, Lahore, Daily Nai Baat, e-paper

انسانی حقوق کی جدوجہد میں جو شخص امر ہوگیا، اس نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ ’’ہم سے پوچھا جاتا ہے کہ ہم کب مطمئن ہوں گے؟ میرا جواب ہے کہ ہم اس وقت تک مطمئن نہیں ہوں گے، جب تک تختی کہیں بھی لگی ہوگی کہ ’’Only for whites ‘‘ سوال رائٹ کی تحریک کا یہ ہیرو ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ جونیئر تھا اور اس نے یہ تقریر 28اگست 1963ء کو واشنگٹن ڈی سی میں عظیم الشان ریلی کی قیادت کرتے ہوئے ابراہیم لنکن کے مجمسّے کے سامنے کی تھی۔ اس نے بھرے مجمعے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’میرا ایک خواب ہے کہ وہ دن آئے کہ جب جارجیا کے سرخ پہاڑوں پر کالے غلاموں کے بیٹے اور گورے آقائوں کے بیٹے ایک ہی میز پر بھائیوں کی طرح بیٹھیں۔‘‘ ڈاکٹر کنگ نے مزید کہا تھا کہ ’’میرا خواب ہے کہ میرے چاروں چھوٹے بچّے ایک دن اس طرح جینے لگیں، جس طرح یہاں کے دوسرے بچّے رنگ و نسل کی شناخت کے بغیر جیتے ہیں۔‘‘ اس نے جذبات سے بھرے لہجے میں کہا تھا کہ ’’ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، جب تک مسی سیپی کے سیاہ فام امریکیوں کو ووٹ کا حق نہیں مل جاتا۔‘‘

آج جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں 17جنوری کو امریکی ڈاکٹر کنگ جونیئر کا دن منارہے ہیں۔ پوری قوم یک جان ہوکر اپنے ہیرو کو خراجِ تحسین پیش کررہی ہے۔ دیکھا جائے تو آج کا دن یہ بتارہا ہے کہ مارٹن لوتھر کنگ کا خواب پورا ہوگیا۔ اب امریکی سیاہ فام کسی امتیاز کے بغیر انتخابات میں نہ صرف ووٹ بھی دیتے ہیں بلکہ امیدوار بن کے امریکی کانگریس اور سینیٹ کے رکن بھی بنتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک سیاہ فام اس ملک کا صدر بھی اس طرح بنا کہ باراک اوباما کے ساتھ ایک گورا جوبائیڈن اس کا نائب صدر بنا اور آج امریکی 

معاشرے میں جابجا گورے اور کالے ایک ساتھ میز پر بیٹھے کھانا کھاتے ہیں اور خوش گپیاں بھی کرتے ہیں۔ ڈاکٹر کنگ 15جنوری کو پیدا ہوئے، مگر امریکی ہر سال تیسرے سوموار کو اس شخصیت کا دن اس لیے مناتے ہیں، کیوں کہ سوموار کو یہ قومی دن کے طور پر منایا جائے اور اس دن کو اہمیت دی جائے۔ وہ 1929ء کو جارجیا میں پیدا ہوئے۔ 15برس کی عمر میں ہائی سکول پاس کیا۔ 1955ء میں انہوں نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرلی تھی۔ 1955-56ء میں وہ بس بائیکاٹ کی قیادت کے دوران گرفتار ہوئے۔ ان کے گھر پر بمباری ہوئی اور اسی دوران وہ نیگرو قوم کے صفِ اوّل کے لیڈر کے طور پر ابھرے۔ 1957ء میں عیسائی لیڈر شپ کانفرنس میں صدر منتخب ہوئے۔ 1957ء سے 1968ء کی گیارہ سالہ مدت میں انہوں نے ساٹھ لاکھ میل سے زیادہ سفر کیا اور اس دوران انہوں نے دوہزار پانچ سو سے زیادہ تقاریر کیں۔ سفر کے دوران لاکھوں لوگوں سے ملتے اور خطابات کرتے رہے۔ اس طرح انہوں نے سول رائٹ تحریک کو منظم کیا۔ ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کو 35برس کی عمر میں نوبیل امن انعام ملا۔ انہوں نے نوبیل پرائز کی رقم جو اس وقت 54123ڈالر بنتی تھی، سول رائٹس تحریک کے فنڈ میں دینے کا اعلان کردیا۔ ڈاکٹر کنگ کی جدوجہد اس طرح رنگ لائی کہ کولن پاول نے نہ صرف امریکی فوج کی قیادت کی، بلکہ ملک کے وزیرخارجہ بھی بنے۔ کونڈو لیزا رائس بھی امریکا کی وزیرخارجہ رہیں۔ باراک اوباما ملک کے دو بار صدر بنے اور آج 2022ء میں بھی ایک سیاہ فام لوائڈو آسٹن ملک کا وزیرِ دفاع ہے۔ یہ وہ شخصیات ہیں، جن کی کمیونٹی کو ووٹ دینے کا حق تھا، نہ بسوں کے اگلے حصّوں میں بیٹھنے کی اجازت تھی۔

آج جو لوگ امریکا ہی میں ذرا سی تکلیف پر بلبلا اٹھتے ہیں، انہیں ذرا ان سیاہ فام لوگوں کے ماضی پر ایک نظر ضرور ڈالنی چاہیے، جو نسلی تعصّب کے بھیانک دور سے گزرے ہیں۔ جنھیں غلام بنا کر رکھا گیا تھا اور ان کی خرید و فروخت اس طرح ہوا کرتی تھی کہ خریدنے والا بیوی سے شوہر کو زبردستی کھینچ کر لے جاتا تھا اور اسی طرح بیوی اور ماں کو شوہر اور بچّوں سے جیتے جی جدا کردیا جاتا تھا۔ 

آج اتنے عرصے بعد پھر ایک مارٹن لوتھر کنگ کی ضرورت محسوس ہورہی ہے، کیوں کہ ایک سیاہ فام جارج فلائیڈ کو سرِعام ایک سفید فام پولیس والا گلا دبا کر مار دیتا ہے، مگر آفرین ہے، امریکی قانون کی عمل داری پر کہ اس پولیس افسر کو عدالت سے سخت سزاملتی ہے، مگر پھر بھی ضرورت ہے ایسے انسان دوست رہنمائوں کی، جو مغربی ممالک میں اسلاموفوبیا اور تعصبّات کے خلاف آواز بلند کریں۔ کاش، ایسا بھی انسانی حقوق کا کوئی علم بردار پھر آئے، جو دنیا بھر کے ان مظلوموں کی آواز بن کر ابھرے، جو ظلم و استبداد کی چکّی میں پس کر بنیادی حقوق سے بھی محروم ہیں۔ کاش، ایسا ایک مارٹن لوتھر کنگ جونیئر پھر پیدا ہوجائے، جو ان کئی ملین لوگوں کی داد رسی کے لیے اٹھ کھڑا ہو، جن کی کوئی وطنیت نہیں، جن کا کوئی گھر نہیں، جن کی کوئی ملازمت نہیں، جن کی تعلیم کا بندوبست نہیں اور جن کا کوئی ملک نہیں۔ کوئی تو اٹھے اور کھڑے ہوکر کہے ’’میرا بھی ایک خواب ہے‘‘ میرا یہ خواب ہے کہ ان حرماں نصیب مظلوموں کو ان کا وطن ملے۔ انہیں رہنے کے لیے ایک سایہ ملے۔ ان کے بچّے بھی سکول جائیں، وہ ایک پرچم تلے کھڑے ہوکر اپنا قومی ترانہ گائیں۔ میرا بھی یہ خواب ہے کہ بے گھر اور اجڑے ہوئے روہنگیا مہاجرین اپنے ملک واپس جائیں۔ میرا یہ خواب ہے کہ محصورین کیمپوں سے نکل کر وہاں جائیں، جہاں انسان بستے ہیں اور انسان خوشیاں مناتے ہیں۔ وہ چھوٹے سے ہی مگر اپنے گھر کے اندر زندگی گزاریں۔ ہاں، میرا بھی ایک خواب ہے۔

مصنف کے بارے میں