سانحہ مری اور ٹیکس کی نادہندگی کا بہانہ

Dr Ibrahim Mughal, Pakistan, Lahore, Daily Nai Baat, e-paper

یہ سر ما یہ داری نظا م ہی کا پھیلا یا ہوا فتو ر ہے کہ اس نے کاغذ کے نوٹ کو اپنا آقا بنا کرانسان کو اس کی غلامی میں دے دیا ۔یہ سرمایہ دارانہ نظام کی اخلاقی پستی ہے کہ منافع خوری زیادہ سے زیادہ کی جائے اگر ایسے مواقع مل جائیں جیسا کہ مری کی حالت زار تھی تو بھر پور منافع کمایا جائے۔ ہوٹل مالکان انتظامیہ کو اس کا بھتہ بھی دیتے ہوں گے کیوں کہ ان کی ملی بھگت کے سوا ایسا کرنا ممکن نہیں ۔ یہ ایک سانحہ تھا جو گزر گیا۔ اس واقعہ کے اپنے معروضی تناظرات ہیں جو سوشل میڈیا پر ڈسکس ہو رہے ہیں ۔لیکن اس طرح ایک کے بعد ایک سانحہ رونما ہوتا چلا جائے گا جب اس بیمار نظام کے بطن سے بیمار ذہن،  زرپرست انسان ،منافع خور ،چور حرام خور ،منظم ڈاکو و لٹیرے ،فطرتی زر پرست آدم خور پیدا ہوتے رہیں گے ۔جڑ کو کاٹنے کے سوا کوئی ممکنہ حل نہیں ،سانحات ہوتے ہیں ان کا تجزیہ ہوتا ہے اسی نظام کے اصولوں کے تحت اور نتیجہ نکلتا ہے صفر ۔اور اب لاشوں کے نکالنے والوں کو سلامیاں پیش کی جائیں گی ۔جب کہ بر وقت ان لاشوں کے لاش بننے سے قبل ان کو نکالا جا سکتا تھا ۔ہم ایٹمی طاقت ہیں، جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں ۔وسائل کی کہاں کمی ہے ۔عوام ٹیکس دیتی ہے روڈ پر سفر کرنے سے لے گھر کی چار پائی تک لیٹنے تک کا ٹیکس ادا کرتی ہے ۔جواب میں ریاست ان وسائل کا بروقت استعمال نہیں کرتی ۔پہلے مار کر پھر لاشوں کو نکالنے پر وسائل کا استعمال کیا معنی رکھتا ہے ۔ یہ تقدیر ہے نہ نصیب نہ قدرت کا عذاب نہ امتحان اور نہ ہی آزمائش ہے بلکہ اس سفاک نظام کا نتیجہ ہے ۔نیچر ایک دم سے نہیں بدلتی۔ یہ آوازیں دے دے کر آتی ہے۔ سرمایہ دارکے کان اس آواز کو سن لیتے ہیں اور اپنے سرمایہ  میں اضافہ کرتے جاتے ہیں ۔ جب تک  یہ زر پرست بت پاش پاش نہیں ہوتا تب تک ایسے سانحات ہوتے رہیں گے ۔ یہ اس نظام کی فطرت ہے، اس کے اوصاف ہیں۔ یہ صفتیں اس بت کے ساتھ اس وقت تک قائم رہیں گی جب تک عوامی کلہاڑی (شعور) سے اس کو ٹکڑے ٹکڑے نہیں کر دیا جاتا ۔ یہ نیچر کا نہیں اس نظام کی قاتلانہ فطرت کاقصور ہے، مجرم نیچر نہیں اس نظام کے علمبردار اور اس کے تھنوں کو چوسنے والے حیوان مجرم ہیں ۔ایسے میں ایک عا م شہری سوال کر تا ہے کہ کیا ہم ٹیکس نہیں دیتے؟؟؟ 2۔ مجھے بتاؤ ٹول پلازے پر ہم کیا دیتے ہیں۔  3۔ مجھے بتاؤ جب شناختی کارڈ بنتا ہے اس کی فیس کا کیا نام ہے۔ 4۔ مجھے بتاؤ جب پاسپورٹ بنتا ہے اس وقت جو پیسے لیے جاتے اسے کیا کہتے ہو۔  6۔مجھے بتاؤ جو بجلی کے بل میں لگ کر آتا ہے اس کا کیا نام ہے۔  7۔مجھے بتاؤ جو موبائل سیٹ پر لیا جاتا ہے اس کا کیا نام ہے۔  8۔مجھے بتاؤ جو فون کارڈ پر کٹوتی ہوتی اس کا کیا نام ہے۔  9۔مجھے بتاؤ جو سوئی گیس کے بل پر لگ کر آتا ہے اس کا کیا نام ہے۔ 10۔  مجھے بتاؤ جب ہم گاڑی لیتے اس وقت جو لیتے ہو اس کا کیا نام ہے۔  11۔ مجھے بتاؤ جب ہم پراپرٹی خریدتے اس وقت جو رقم لیتے ہو اس کا کیا نام ہے۔ 12 ۔مجھے بتاؤ جب ہم پراپرٹی فروخت کرتے ہیں، اس وقت جو لیتے ہو اس کا کیا نام ہے۔ 13۔ مجھے بتاؤ جب ہم پٹرول گاڑی میں ڈلواتے اس وقت جو ہم سے لیتے ہو اس کا کیا نام ہے۔ 14۔ مجھے بتاؤ جب ہم منرل واٹر، کوک، سپرائٹ، پیپسی پیتے اس وقت جو آپ ہم سے لیتے اس کا کیا نام ہے۔ 15۔ مجھے بتاؤ جب ہم سگریٹ لیتے اس وقت جو ہم سے لیتے ہو اس کا کیا نام ہے۔ 16۔ مجھے بتاؤ جب ہم دوائی خریدتے ہے اس وقت جو لیتے ہو اس کا کیا نام ہے۔17۔ مجھے بتاؤ جب ہم موٹر وے پر سفر کرتے ہیں اس وقت جو ہم سے لیتے ہو اس کا کیا نام ہے۔ 18۔ مجھے بتاؤ جب ہم کپڑے اور جوتے خریدتے اس وقت جو ہم سے لیتے ہو اس کا کیا نام ہے۔ 19۔ مجھے بتاؤ ہسپتال میں داخل ہوتے وقت جو ہم فیس دیتے اس کا کیا نام 

ہے۔ 20۔ مجھے بتاؤ جب ہم موٹر سائیکل اور سائیکل خریدتے اس وقت جو ہم سے لیتے ہو اس کا کیا نام ہے۔ 21۔ مجھے بتاؤ جب ہم بچے کی جنم پرچی بنانے جاتے ہیں جو اس وقت لیتے ہو اس کا کیا نام ہے۔ 22۔ مجھے بتاؤ جب ہم ڈیتھ سرٹیفکیٹ بناتے وقت آپ کو کچھ روپے دیتے اس کا کیا نام ہے۔ 23۔مجھے بتاؤ  زمینوں کی رجسٹری پر جو آپ ہم سے لیتے ہو اس کا کیا نام ہے۔ 24۔مجھے بتاؤ نہر کا پانی استعمال کرنے پر جو آپ ہم سے لیتے ہو اس کا کیا 

نام ہے۔ 25۔ مجھے بتاؤ واسا کا پانی استعمال کرنے پر جو آپ ہم سے لیتے ہو اس کا کیا نام ہے۔26۔ مجھے بتاؤ جب زمین دار اپنی فصل منڈی میں لے کر جاتا ہے وہاں جو فیس لیتے ہو اس کا کیا نام ہے۔ 27۔مجھے بتاؤ جو سالانہ فیس آپ شہروں میں گھروں پر لیتے ہاؤس ٹیکس کے نام پر اس کا کیا نام ہے۔ 28۔ مجھے بتاؤ جو ٹیلی ویژن کی ماہانہ فیس بجلی کے بلوں پر لگ کے آتی ہے اس کا کیا نام ہے۔29۔ مجھے بتاؤ سرکاری سکولوں کی جو بچے فیس دیتے اس کا کیا نام نام ہے۔ 30۔ مجھے بتاؤ بچے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں جو فیس دیتے ہیں اس کا کیا نام ہے۔ 31۔ مجھے بتاؤ گاڑیوں کو سالانہ ٹوکن لگتے ہیں، اس کا کیا نام ہے۔ 32۔ مجھے بتاؤ اسلحہ کے لائسنس کی رینیول پر آپ جو سالانہ لیتے ہو اس کا کیا نام ہے۔ 33۔ مجھے بتاؤ ڈرائیونگ لائسنس بناتے وقت اور اس کی رینیول کرتے وقت جو آپ فیس لیتے ہو اس کا کیا نام ہے۔ 34۔ مجھے بتاؤ جو تم انٹر نیٹ پر کٹوتی کرتے ہو اس کا کیا نام ہے۔ 35۔ مجھے بتاؤ ہر سرکاری محکمے سے جو بھی عوام نے لائسنس یا این او سی لینا ہوتا ہے اس کی جو فیس لیتے ہو اس کا کیا نام ہے۔ 36۔ مجھے بتاؤ یہ نیلم سرچارج بجلی کے بلوں میں لگ کر آتا ہے اس کا کیا نام ہے۔ 37۔ مجھے بتاؤ نکاح نامہ رجسٹر کرانے کی جو فیس لیتے ہو اس کا کیا نام ہے۔ 38۔مجھے بتاؤ بچوں کا ب فارم بنانے کی جو فیس لیتے ہو اس کا کیا نام ہے۔39۔ مجھے بتاؤ ہر چیز پر جو جی ایس ٹی لیتے ہو اس کا کیا نام ہے۔ 40۔ مجھے بتاؤ بارڈر ایریا سے درخت کاٹنے اور مالک کی اپنی زمین سے مٹی یا ریت نکالنے کی جو فیس لیتے ہو اس کا کیا نام ہے۔ خیر جانے دیجئے حضو ر یہ لسٹ بہت طو یل ہے۔ جناب وزیرِ خزانہ صاحب ٹی وی کے ایک چینل پر کہہ رہے تھے کہ عوام ٹیکس نہیں دیتے۔ اگر عوام ٹیکس نہیں دیتے تو پھر مجھے بتاؤ یہ کیا ہے جو ہم آج تک دیتے آ رہے ہیں۔ عوام سے رسیدیں مانگنے کے بجائے یہ جو آپ عوام سے لیتے ان کا حساب ایک دن کا ایمانداری سے دے دیں یہ کدھر جاتا ہے۔بہت سارے ٹیکس ایسے ہیں جو عوام سے وصول کیے جاتے ہیں لیکن شاید عوام کو اور مجھے بھی معلوم نہیں ان کا کیا نام ہے۔لیکن اس کے عوض مری میں برف باری کا لطف اٹھانے کے لیے جانے والے ہزاروں خاندانوں کا موت کے منہ میں جا پھنسنا اور درجنوں افراد کا انتہائی بے بسی کے عالم میں جاں بحق ہوجانا ایسا روح فرسا اور اندوہناک سانحہ ہے جس نے پوری قوم کو شدید سوگواری کی کیفیت میں مبتلا کردیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق برفانی طوفان کے نتیجے میں کم از کم 22 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ ہزاروں لوگ رات بھر سڑکوں پر پھنسے مدد کیلئے پکارتے رہے لیکن متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے کوئی ان کی مدد کو نہ پہنچا ۔برف باری میں پھنسے سیاح اپنے عزیز و اقارب سے فون کال،وٹس ایپ اور فیس بک پرمدد کی اپیل کرتے رہے کہ کسی بھی طرح حکومت تک ہمارا پیغام پہنچایا جائے اور ہماری مدد کی جائے۔ اس سانحے کے معاملے میں سب سے زیادہ قابل غور نکتہ یہ ہے کہ مری ملک کا کوئی دُور افتادہ مقام نہیں جہاں بروقت امدادی کارروائیاں شروع کرنا ممکن نہ ہو جبکہ موسم کی صورت حال کے پیش نظر انتظامیہ کا ہر قسم کے حالات سے نمٹنے کے لیے تیار رہناضروری تھالہٰذا جو کچھ ہوا وہ حکومت کی کھلی ناکامی ہے ۔ 

مصنف کے بارے میں