جرمنی کا ترکی کے خلاف اقدامات کا اعلان،انقرہ کا بھی سخت جواب

جرمنی کا ترکی کے خلاف اقدامات کا اعلان،انقرہ کا بھی سخت جواب

انقرہ:ترکی میں انسانی حقوق کے جرمن کارکن پیٹر شٹوئڈنر کی گرفتاری کے باعث پیدا ہونے والی نئی دوطرفہ کشیدگی کے تناظر میں وفاقی جرمن وزیر خارجہ زیگمار گابریئل نے ترکی کے خلاف متعدد اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جرمن وزیر خارجہ نے اعلان کیا کہ جرمنی ترکی کے خلاف کئی ایسے اقدامات کرے گا۔


جو اس بات کا ردعمل ہوں گے کہ ترک حکام نے انسانی حقوق کے سرکردہ جرمن کارکن کو شٹوئڈنر کو حراست میں لے رکھا ہے۔اس تناظر میں جرمن وزیر خارجہ کادیا جانے والا بیان دونوں ممالک کے مابین کھچاؤ میں اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جرمنی بھی، جو کہ ترکی کی طرح نیٹو کا ایک رکن ملک اور انقرہ کا اتحادی بھی ہے۔

اب بڑھتی ہوئی دوطرفہ کشیدگی میں اپنی طرف سے زیادہ سخت موقف کی طرف بڑھنے لگا ہے۔زیگمار گابریئل نے اس حوالے سے برلن میں کہا کہ جرمنی ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کی خواہش کے بارے میں اس بلاک میں اپنے ساتھی ممالک سے بھی بات چیت کرے گا اور برلن اب اس بات کی ضمانت بھی نہیں دے سکتا کہ بڑے جرمن کاروباری ادارے ترکی میں سرمایہ کاری کریں گے۔

جرمن وزیر خارجہ نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اب ان کے لیے یہ سوچنا محال ہے کہ یورپی یونین ترکی کے ساتھ کسٹمز یونین میں توسیع سے متعلق کوئی مذاکرات کرے گی۔ اسی کے علاوہ گابریئل نے جرمن شہریوں کے نام ایک نئی تنبیہ جاری کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ جرمنوں کے لیے ترکی کا سفر خطرات سے خالی نہیں ہے۔

وزیر خارجہ گابریئل نے برلن میں صحافیوں کو بتایاکہ ہمیں ضرورت ہے کہ ترکی سے متعلق ہماری پالیسیاں اب ایک نئی سمت میں جائیں۔ اب ہم پہلے والی حکمت عملی پر عمل پیرا نہیں رہ سکتے۔ ہمیں اب تک کے مقابلے میں اپنی بات زیادہ واضح طور پر کہنا ہو گی تاکہ انقرہ کے پالیسی ساز یہ سمجھ سکیں کہ ان کی موجودہ پالیسیوں کے پھر نتائج بھی نکلیں گے۔

زیگمار گابریئل نے مزید کہا کہ انہوں نے ترکی کے خلاف اقدامات کے حوالے سے جرمنی کی جن نئی پالیسیوں کا اعلان کیا ہے، ان سے سربراہ حکومت کے طور پر جرمن چانسلرمیرکل بھی پوری طرح اتفاق کر چکی ہیں۔