لاہور:پاکستان میں انتخابات کے بعد نئی حکومت کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا جن میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، انتہا پسندی اور کئی دہائیوں سے سول حکومت اور فوج کے مابین جاری تناؤ جیسے مسائل سر فہرست ہیں۔

 

پچیس جولائی کے روز ہونے والے عام انتخابات جو بھی سیاسی جماعت جیتے، ایک بات طے ہے کہ انہیں حکومت بنانے کے فوری بعد کئی مشکل فیصلے کرنا ہوں گے۔ پاکستان کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا ہے جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں۔

دہشت گردی کا عفریت:

گزشتہ برسوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف پاکستانی سکیورٹی فورسز نے کئی آپریشنز کیے جن کے بعد ملک کی سکیورٹی صورت حال نمایاں طور پر بہتر ہو چکی ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں طویل عرصے سے خبردار کرتے رہے ہیں کہ پاکستان میں شدت پسندی پھیلنے کی حقیقی وجوہات کا تدارک نہیں کیا جا رہا اس لیے دہشت گرد کسی بھی وقت دوبارہ بڑے حملے شروع کر سکتے ہیں۔

حال ہی میں مستونگ میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔ یہ واقعہ پاکستانی تاریخ کا دوسرا سب سے زیادہ خونریز ترین دہشت گردانہ حملہ تھا جس میں ڈیڑھ سو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق شدت پسند گروہ فوجی آپریشنز میں بھاری نقصان اٹھانے کے بعد دوبارہ منظم ہونے کی کوششوں میں ہیں۔

مسلسل بگڑتی اقتصادی صورت حال:

سکیورٹی مسائل کے علاوہ ملک کی اقتصادی صورت حال بھی نئی حکومت کے لیے ایک چیلنج ثابت ہو گی۔ ادائیگیوں کے توازن کا مسئلہ شدید ہونے کے بعد ایسے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کو ایک مرتبہ پھر آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج لینے کی ضرورت پڑ جائے گی۔

مرکزی بینک زر مبادلہ کے ذخائر مسلسل استعمال میں لا رہا ہے اور روپے کی قدر صرف رواں ہفتے کے دوران مزید پانچ فیصد کم ہو چکی ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے غیر ملکی مصنوعات کی درآمدات میں اضافہ کر رہا ہے اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث بھی ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

بڑھتی ہوئی آبادی کا مسئلہ:

عالمی بینک اور حکومتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں خاندانی منصوبہ بندی نہ ہونے کے سبب آبادی میں اضافے کی شرح ایشیا کے کئی دیگر ممالک کی نسبت زیادہ ہے۔ سن 1960 سے لے کر اب تک ملکی آبادی میں پانچ گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ گزشتہ برس کی مردم شماری کے مطابق ملکی آبادی 207 ملین تک پہنچ چکی ہے۔

تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث اقتصادی اور سماجی سطح پر مثبت اقدامات کے اثرات بھی زائل ہو رہے ہیں۔ اس صورت حال میں ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ قدامت پسند معاشرے میں حکومت کے لیے خاندانی منصوبہ بندی پر گفتگو کرنا بھی ایک مشکل کام ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر آبادی پر قابو نہ پایا گیا تو پانی سمیت ملک کے قدرتی وسائل اتنی بڑی آبادی کے لیے ناکافی ہو جائیں گے۔

 

پانی کی قلت کا مسئلہ:

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر پاکستان نے پانی کی قلت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہ کیے تو اگلے چند برسوں میں پاکستان بحرانی صورت حال کا شکار ہو جائے گا۔ پاکستان کے شمالی علاقوں میں ہمالیہ کے گلیشیئر بھی ہیں اور مون سون کی بارشیں بھی کافی ہوتی ہیں۔

لیکن ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کے لیے ڈیموں کی تعداد ناکافی ہے۔ ملک بھر میں صرف تین بڑے ڈیم ہیں، اس کے مقابلے میں کینیڈا اور جنوبی افریقہ میں ایک ہزار سے زائد ڈیم ہیں۔ ڈیموں کی تعمیر کا معاملہ اکثر تنازعات کا سبب بھی بن جاتا ہے لیکن نئی حکومت کو اس ضمن میں فوری طور کام کرنا پڑے گا اور اس حوالے سے عوام کو معاملے کی نزاکت سے آگاہ کرنے کی بھی ضرورت پڑے گی۔

فوجی اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات:

پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں نصف سے زیادہ مدت تک فوج نے براہ راست ملک کی باگ ڈور سنبھالے رکھی۔ سن 2013 میں پہلی مرتبہ اقتدار ایک منتخب حکومت سے دوسری منتخب حکومت کو منتقل ہوا تھا جس کے بعد ملک میں جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہونے کی امید کی جا رہی تھی۔

تاہم حالیہ انتخابات سے پہلے ہی صورت حال تیزی سے تبدیل ہوتی چلی گئی۔ تین مرتبہ ملکی وزیر اعظم بننے والے نواز شریف اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تناؤ کے باعث سول-ملٹری تعلقات ایک مرتبہ پھر غیر متوازن ہو چکے ہیں۔ نئی منتخب حکومت کو بھی ان تعلقات میں توازن رکھتے ہوئے ملکی مسائل کا حل تلاش کرنے کا بیڑا اٹھانا پڑے گا۔