امریکا سے مذاکرات ’فاش غلطی‘ ہوں گے، خامنہ ای

10:15 PM, 21 Jul, 2018

تہران :ایران کے سپریم آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکا پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، اس لیے امریکا کے ساتھ مذاکرات ایک ’فاش غلطی‘ ہوں گے۔

 

وزارت خارجہ کے اہلکاروں کے ساتھ ملاقات میں خامنہ ای نے کہا، امریکیوں کے کسی لفظ بلکہ دستخط شدہ مواد بھی پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا،  اس لیے امریکا کے ساتھ مذاکرات بے سود مشق ثابت ہوں گے۔‘‘ خامنہ ای کا یہ بیان ان کے سرکاری ویب سائٹ پر شائع کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:فلسطین میں صورتحال معمول پر لانے کیلئے جنگ بندی کا اعلان
 
  
دوسری جانب ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے اس سے قبل کہا تھا کہ تہران حکومت نے امریکا کی جانب سے یک طرفہ طور پر پابندیوں کے نفاذ کے خلاف بین الاقوامی عدالت برائے انصاف سے رجوع کیا ہے، انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ امریکا سے ایران پر یک طرفہ طور پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کا جواب طلب کرے۔

خامنہ ای کی جانب سے بھی چند روز قبل ایک بیان میں تہران حکومت سے کہا گیا تھا کہ وہ عالمی برادری کے ساتھ تعلقات میں بہتری لائے، تاہم امریکا کے ساتھ تعلقات کی ضرورت نہیں۔

  

اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے لکھا ہے، ’’ ایران قانون کی بالادستی کے عزم پر قائم ہے اور وہ امریکا کی جانب سے سفارت کاری اور قانونی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کا مقابلہ کرے گا۔ امریکا کی جانب سے قوانین کی خلاف ورزی کا موثر جواب دینا انتہائی ضروری ہے۔

جواد ظریف نے تو اپنے اس بیان میں زیادہ وضاحت نہیں کی، تاہم ایرانی حکام متعدد مرتبہ الزامات عائد کر چکے ہیں کہ امریکا جوہری معاہدے سے نکلنے کے بعد ایران کے خلاف ’غیرقانونی پابندیاں‘ عائد کر رہا ہے۔ ایرانی حکام کا یہ الزام بھی کہنا ہے کہ اس ڈیل سے نکلنے سے قبل بھی امریکا اس معاہدے کی خلاف ورزی میں مصروف رہا ہے۔


 

مزیدخبریں