اسٹاک ایکسچینج حملہ:دو ممالک کی سرزمین استعمال ہونے کا انکشاف

اسٹاک ایکسچینج حملہ:دو ممالک کی سرزمین استعمال ہونے کا انکشاف

کراچی: اسٹاک ایکسچینج پرحملے میں مبینہ طور پر دو ممالک کی سرزمین استعمال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔


سیکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک ملک میں حملے کی منصوبہ بندی ہوئی اور دوسرے ملک میں دہشت گردوں کو تربیت فراہم کی گئی۔انیس جون کوکراچی میں پاکستان اسٹاک ایکس چینج پرحملےکی منصوبہ بندی کب کہاں کیسےہوئی؟ اس کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔حملہ آوروں  سے برآمدہ ونے والی  دوموبائل سمز نومبر دوہزارانیس میں لاہوراور سرگودھا سے جاری ہوئیں۔

سیکیورٹی ذرائع  کے مطابق پہلے سے فعال موبائل سمز  کو مقامی دکان داروں سے زائد قیمت پرخریدا گیا۔ خریدنے کے بعد موبائل سمز پہلے چمن میں آن کی گئیں۔ اور آخری بار موبائل سمز کو حملے سے قبل بلوچستان کے علاقے حب میں کھولا گیا۔انتیس جون کی صبح گاڑی میں سوار چار دہشتگرد کراچی میں وال اسٹریٹ کہلانے والی آئی آئی چندریگرروڈ سے متصل گلی میں پاکستان اسٹاک ایکس چینج پہنچے اورانہوں نے گاڑی داخلہ راستے پرچھوڑ کر پی ایس ایکس میں داخلے کی کوشش کی تھی۔

حملے کے دوران چاروں دہشت گرد سندھ پولیس کی ریپڈ رسپانس فورس  کے جوانوں  کے ہاتھوں مارے گئےتھے۔حملے میں تین سیکورٹی گارڈز اور ایک پولیس سب انسپکٹر نے جام شہادت نوش کیا تھا۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کے خلاف مقدمہ ایس ایچ او میٹھا در کی مدعیت میں درج ہے۔ مقدمے میں دہشت گردی، قتل، اقدام قتل اور پولیس مقابلے سمیت ایکسپلوزیو ایکٹ اور سندھ آرمز ایکٹ کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملے کی مذمت کی اور اس کو بھارت کی سازش قرار دیا ہے۔

قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے پہلے بھی ہماری ایجنسیز نے چار تخریب کاری کے منصوبے ناکام بنادیے تھے۔ ان سب کی منصوبہ بندی بھارت میں کی گئی۔