فوجی عدالتوں سے سزایافتہ196مجرموں کی رہائی کا حکم معطل

 فوجی عدالتوں سے سزایافتہ196مجرموں کی رہائی کا حکم معطل

اسلام آباد: سپریم کورٹ پاکستان نے 196سزایافتہ مجرموں کی رہائی کا حکم معطل کردیا ہے۔ پشاور ہائی کورٹ نے فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے ان مجرموں کی رہائی کا حکم دیا تھا۔


جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے وفاق کی درخواست پر سماعت کی ہے۔ سپریم کورٹ نے فریقین کونوٹسز جاری کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے مجرموں کے مقدمات کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔سماعت کے دوران جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے فوجی عدالتوں سےٹرائل کے بعد مجرمان کوسزاہوئی، ہر کیس کےاپنےشواہد اورحقائق ہیں۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیا مجرمان رہائی کے فیصلے کے بعد جیلوں میں ہیں؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کا آگاہ کیا کہ  مجرمان کو تاحال رہا نہیں کیا گیا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلےکومعطل کیا جائے۔ مجرموں کی رہائی سےمتعلق کیس کی سماعت جمعہ کودوبارہ ہوگی۔خیال رہے کہ جون2020 میں پشاور ہائی کورٹ نے فوجی عدالتوں کی طرف سے مختلف الزامات کے تحت سزاؤں کے خلاف دائر اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے 196 افراد کی سزائیں کالعدم قرار دے دی تھیں اور مزید ایک سو سے زیادہ مقدمات کا ریکارڈ طلب کیا تھا۔چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس نعیم انور پر مشتمل بینچ نے300 سے زیادہ درخواستوں پر سماعت کی تھی۔

ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ اگر یہ تمام افراد کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہیں ہیں تو انھیں رہا کر دیا جائے۔تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملزمان کو شفاف ٹرائل کا موقع نہیں دیا گیا، یہاں تک کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے ملزمان یا جنھیں سزا سنائی گئی ہے انھیں اپنا وکیل رکھنے کا موقع بھی فراہم نہیں کیا اور یہ آئین کے آرٹیکل 10 اور 10 اے کی خلاف ورزی ہے۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کے دستخط شدہ 426 صفحات پر مشتمل اس تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ پاکستان آرمی کے رول 82، 83 اور 87 جنھیں رول 23 اور 24 کے ساتھ پڑھا جا سکتا ہے، میں واضح طور پر لکھا ہے کہ جس شخص کے خلاف مقدمہ فوجی عدالت میں زیر سماعت ہو، اسے دفاع کے لیے وکیل کرنے کی اجازت ہے لیکن اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ چنانچہ اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مقدمے کے دوران ملزمان کے وکیل کے بغیر ٹرائل کو شفاف نہیں سمجھا جا سکتا۔

قبل ازیں جسٹس وقار احمد سیٹھ نے 2019 میں بھی فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ افراد کی اپیلوں کو منظور کرتے ہوئے ان کے حق میں فیصلہ سنایا تھا۔