عمران خان کے فین کلب کی حقیقت کیا ہے ؟

عمران خان کے فین کلب کی حقیقت کیا ہے ؟

’’پاکستان تحریک انصاف نے لینڈ سلائیڈ وکٹری حاصل کی، عمران خان کے سپورٹرز کو مبارک‘‘ ۔ یہ وہ پیغام تھا جو میں نے اپنے سوشل میڈیا پیجز پر دیا۔ یہ مبارکباد ایک مثبت پیغام تھا، مگر جواب میں طعنوں اور مغلظات کا تانتا بندھ گیا۔پی ٹی آئی کے چاہنے والوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر گالیاں نکالنا ایک عام سی بات ہے لیکن اس دن میرا خیال تھا کہ یہ لوگ جیتے ہوئے ہیں، خوش ہوں گے اور عام انسانوں جیسا محسوس کر رہے ہوں گے مگر مجھے معلوم ہوا کہ عمران خان نے ایک ایسی نسل تیار کر دی ہے جو ہر وقت جنگی ماحول میں رہتی ہے، خوشی ہو یا غمی یہ ہر وقت گالیاں بکتے ہیں، مائوں بہنوں کا احترام ان کیلئے کوئی معنی نہیں رکھا، آپ ساٹھ سالہ چاچو سے بات کریں یا 15 سالہ کزن سے، عمران خان کی محبت میں سب چیخیں مارتے، کف اڑاتے نظر آتے ہیں ۔مدلل اور سلجھے ہوئے انداز گفتگو کی ان سے کبھی امید کی ہی نہیں جا سکتی۔

پاکستان کے سیاسی عمل میں حصہ لینے والے وہ پاکستانی جو عمران خان، آصف زرداری اور نواز شریف کو ایک سیاستدان کی طرح کارکردگی کی بنیاد پر پرکھتے ہیں ہم ان کی بات نہیں کر رہے بلکہ عمران خان کی حمایت میں جو لوگ بے حال ہوئے جا رہے ہیں ، جنہیں بتدریج انصافی، یوتھیاز اور عمرانڈوز کہا جاتا ہے آج ان کا ذکر نیک کرنا مقصود ہے اور یہ اندازہ لگانے کی کوشش کرنی ہے کہ آخر یہ مخلوق کیسے پیدا ہوئی ؟اس کیلئے ہمیں عمران خان کے پروپیگنڈے کو سمجھنا ہو گا۔

پاکستانی عوام میں ایک عام تاثر یہ ہے کہ عمران خان بڑا سیدھا سادھا، شرمیلا نوجوان تھا مگر درحقیقت عمران خان ایک انتہائی کائیاں انسان ہیں۔ جنہوں نے ایک پروپیگنڈہ کے ذریعے اپنا فین کلب بنایا ہے، ہر دور میں اس کا انداز مختلف مگر جدید رہا ہے، انہیں معلوم ہے کہ کب شرٹ لیس تصویر اور لڑکی کے ساتھ بیچ کی ویڈیو عوام میں پھیلانی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لڑکیوں کو حلقہ ارادت میں شامل کیا جا سکے اور کب تسبیح پکڑ کر نماز کی مشہوری کرنی ہے تاکہ اسلامی ٹچ دیا جا سکے۔ بہت سے ریفرنس اور حوالے ہیں یہاں طوالت کے پیش نظر ایک حوالہ پیش کرنے کی جسارت کرتا ہوں۔ 

مصنف کرسٹوفر سینڈ فورڈ اپنی کتاب Imran Khan ,The crickter ,The celebrity ,The politicanمیں لکھتے ہیں کہ ’’عمران خان بہت توانا اور مضبوط ہی نہیں بلکہ جنس مخالف کے لئے پرکشش ہیں ،یہ پہچان بنانے کے لئے کپتان نے بہت محنت کی ۔فیشن اور ڈیزائننگ کی دنیا سے تعلق رکھنے والے ایک ’’گُرو‘‘کی خدمات حاصل کی گئیں ۔عمران خان کو سیکس سمبل بناکر پیش کرنے کے پیچھے مسٹر ڈار کا ہاتھ ہے جس نے اس زمانہ کے مشہور ہیئر اسٹائل Lion lookکے مطابق عمران خان کو گروم کیا۔ڈار بتاتے ہیں کہ ایک بار عمران خان نے انہیں ایک میچ دیکھنے کے لئے بلایا اور ٹاسک دیا کہ ایک حسینہ کو بھی ساتھ لیکر آنا ہے جو عمران خان کو گھاس نہیں ڈال رہی تھیں۔میچ کے دوران جو لڑکے آٹوگراف لینا چاہ رہے تھے کپتان ان سب کو ٹالتے رہے اور شام چھ بجے گیٹ پر ملنے کا کہتے رہے ۔اسی مقررہ وقت جب مسٹر ڈار اس حسینہ کو عمران خان سے ملوانے کے لئے وہاں پہنچے تو وہ مداحوں میں گھرے آٹوگراف دے رہے تھے ،یہ منظر دیکھ کر وہ حسینہ پگھل گئی ‘‘۔

آج عمران خان کی حمایت میں کئی آنٹیاں ہمیں آنسو بہاتی ہوئی نظر آتی ہیں، ان میں ایک قسم ان خواتین کی ہے جو 90ء کی دہائی میںلڑکیاں تھی ۔ یعنی آج ان آنٹیوں کی عمریں  45سے 60سال کے درمیان ہیں،یہ خواتین عمران خان سے شادی کے خواب دیکھا کرتی تھیں یا اسے پسند کیا کرتی تھیں یا اس کی خوبصورتی کی مداح تھیں۔ انہوں نے گزشتہ چالیس سال عمران خان کا اسلامی ٹچ دیکھا، اس کی شادیاں دیکھیں اور اس کا سماجی کام دیکھا ۔ آج یہ بزرگ خواتین بن چکی ہیں اور ان کے بچے اور اکثر کے بچوںکے بچے بھی ہیں ، یہ اپنے گھروں کی مختار کل ہیں اور پاکستان سے محبت کی آڑ میں یہ خواتین گھروں سے نکلتی ہیں عمران خان کی ایک جھلک دیکھنے جلسوں میں جاتی ہیں، اس کو دیکھ کر جوانی کی محبت کو یاد کرتی ہیں، آہیں بھرتی ہیں اور غصے میں آکر نواز شریف ، زرداری اور اسٹیبلشمنٹ کو گالیاں نکالتی ہیں۔

اسی طرح عمران خان کے مرد فینز کی عمریں بھی آج 40 سے 60 سال کے درمیان ہو چکی ہیں، معاشرتی علوم کو پاکستان کی کل تاریخ سمجھتے والے یہ بابے ، جنہوں نے ساری زندگی کے فارغ وقت میں صرف کرکٹ دیکھی ہے جو کرکٹر ٹرن سیاستدان کی محبت میں حد سے آگے نکل چکے ہیں،انہوںنے جوانی میں ضیا کا دور دیکھا، سیاستدانوں کے کرپٹ ہونے کے پروپیگنڈے کا شکار ہوئے اور پھر عمران خان کو ایک سیاسی آپشن کے طور پر دیکھااور اب اپنی انا کے ہاتھوں مجبور اپنی رائے سے رجوع کرنے پر تیار نہیں ہیں۔

عمران خان کے فین کلب میں بڑی تعداد اس وقت ایسے نوجوانوں کی ہے جنہوںنے ہوش سنبھالا تو عمران خان کو ایک سپر سٹار، سماجی کارکن سے سیاستدان بنتے ہوئے دیکھا، بلوغت میں نواز شریف اور بینظیر کا دور دیکھا اور ان دونوں سیاسی جماعتوں کی اقتدار کیلئے رسہ کشی اور اسٹیبلشمنٹ کی گود میں بیٹھنے کیلئے کشمکش کا حال دیکھا، انہوں نے وہ پروپیگنڈہ دیکھا جب کارگل کی جنگ کا سارا ملبہ نواز شریف پر ڈالا گیا، ایٹمی دھماکوں کا کریڈٹ آرمی لے گئی، مشرف کا مارشل لاء لگا تو یہ ابھی سمجھنے کی عمر میں تھے اور انہیں وہی سمجھایا گیا جو پاکستانی ریاست چاہتی تھی، یہ نوجوان تاریخ سے نابلد ہیں، قائد اعظمؒ کے ساتھ کیا ہوا، لیاقت علی خان، حسین شہید سہروردی، محمد خان جونیجو کی رواداد کیا تھی؟ ان کے فرشتے بھی نہیں جانتے۔ انہیں لگتا ہے پاکستان سیاستدانوں نے توڑا، ہم نے بھارت کو ہر جنگ میں ناکوں چنے چبوائے، ایوب خان پاکستان کا محسن تھا، جنرل ضیاء سچا کھرا مسلمان تھا ، مشرف ایک دبنگ رہنما تھا اور عمران خان امت مسلمہ کا سب سے بڑا رہنما ہے۔

عمران خان کے فین کلب میں ایک بڑی تعداد معصوم بچوں کی بھی ہے، یہ وہ بچے ہیں  جو ابھی شعور کی منزلیں طے کر رہے ہیں مگر ان کے سفاک والدین انہیں کندھوں پر بٹھا کر جلسوں میں لے جاتے ہیں، ان کی ویڈیوز بنا کر انہیں سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرتے ہیں اور ان بچوں کا مستقبل خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر کوئی مہذب ملک ہوتا تو یہ بچے چائلڈ پروٹیکشن کی تحویل میں اور ان کے والدین جیل کی سلاخوں کے پیچھے جا چکے ہوتے۔

عمران خان کا یہ فین کلب سیاسی سپورٹر نہیں بلکہ ایک فرقے کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جیسے امریکہ میں جم جونز اور بھارت میں گرو رجنیش کو ماننے والے تھے اسی طرح یہ چند ہزار لوگ پاکستان میں عمران خان کی محبت میں سارے سیاسی نظام کو گدلا کر رہے ہیں۔ عمران خان ایک بار پھر اقتدار حاصل کرنے کیلئے ان بے لوث محبت کرنے والوں سے دروغ گوئی کرتے ہیں، انہیں بے وقوف بناتے ہیں مگر ان کے فینز یہ سمجھنے پر تیار نہیں کہ بات پاکستان کی ہے، سیاسی لیڈر کی حمایت کرنا ان کا حق ہے لیکن اس کی وجہ جوانی کی محبت یا کسی کا ہینڈسم ہونا یا تسبیح پکڑنا ہرگز نہیں ہو نا چاہیے۔

مصنف کے بارے میں