'راحیل شریف کو سرکاری طور پر سعودی عرب نہیں بھجوایا گیا'

اسلام آباد: سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نزہت صادق کی زیر صدارت ہوا جس میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز کو سعودی عرب اور قطر تنازع پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کے دوران کمیٹی نے حکومت سے سعودی عرب اور قطر کشیدگی کے معاملے پر غیر جانبدارانہ مصالحتی کردار ادا کرنے کی سفارش کی۔ کمیٹی کے چیئرمین نزہت صادق نے بتایا کہ تنازع کے حل کے لیے وزیراعظم نواز شریف کی سعودی فرماں روا شاہ سلمان کے علاوہ امیر قطر سے بھی بات ہوئی ہے۔

مشیر خارجہ سر تاج عزیز نے مشرق وسطیٰ بالخصوص سعودی عرب-قطر تنازع پر بات کرتے ہوئے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ پاکستان، قطر-سعودی تنازع میں غیرجانبدارانہ پالیسی پر کاربند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن-سعودی عرب تنازع پر منظور ہونے والی پارلیمانی قرارداد موجودہ خلیجی بحران میں پاکستان کی پالیسی کا بنیادی نکتہ ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر کریم خواجہ کا کہنا تھا کہ راحیل شریف کو رضاکارانہ طور پر واپس آ جانا چاہیے سعودی عرب اگر اس طرح بھرتیاں کرے گا تو ایران بھی ایسا کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خلیجی بحران میں پاکستان کے کردار سے مطمئن نہیں۔

مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے واضح کیا کہ جنرل راحیل شریف کو سرکاری طور پر نہیں بھجوایا گیا بلکہ سابق آرمی چیف نے اسلامی اتحاد فورس کی سربراہی ذاتی حیثیت میں قبول کی۔

اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ راحیل شریف کو واپس بلانے سے پاک-سعودی عرب تعلقات خراب ہوں گے پاکستان کا 50 فیصد زرمبادلہ خلیجی ممالک سے آتا ہے اور پاکستان اتنے بڑے نقصان کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ قانون سازوں کے خدشات پر سرتاج عزیز نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کے پاکستان کسی دوسرے ملک کے مسئلے میں مداخلت نہیں کرے گا۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں