مقبوضہ کشمیر : عدالت نے 27سال پرانے مقدمے میں سیدعلی گیلانی کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کردیئے

سرینگر: مقبوضہ کشمیرکی ایک عدالت نے 27بر س پرانے ایک مقدمہ میںکل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے ہیں ، یہ وارنٹ بھدرواہ کی ایک عدالت نے جاری کئے ہیں ۔

مقدمے میں سید علی گیلانی پر الزام ہے کہ انہوں نے 27برس قبل بھدر واہ میں ایک تقریب کے دوران بھارت مخالف اور اشتعال انگیز تقریر کی تھی۔اس حوالے سے بھدر واہ پولیس اسٹیشن میں ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا جبکہ مقامی عدالت میںیہ کیس 1989سے زیر سماعت ہے۔

عدالت نے گزشتہ روز مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے سید علی گیلانی کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے ہیں ۔ بھدرواہ سے پولیس کی ایک ٹیم وارنٹ کو لیکر سرینگر پہنچی ہے اور پولیس تھانہ ہمہامہ کے اہلکاروں کے ہمراہ حریت چیئرمین کے گھر بھی گئی ہے ،جہاں انہوں نے سیدعلی گیلانی کو انکی گرفتاری کے وارنٹ کے بارے میں آگاہ کیا اور سید علی گیلانی نے خود کو گرفتاری کیلئے پیش کیا۔تاہم طویل عرصے سے نظر بند مزاحمتی لیڈر کی گرفتار ی عمل میں نہیں لائی گئی۔

ادھر کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں عدالت کی طرف سے سید علی گیلانی کی گرفتاری کے وارنٹ کے اجرا کو مضحکہ خیز قراردیا ہے ۔

انہوں نے کہاکہ پولیس کو بتایا گیا کہ حریت چیئرمین طویل عرصے سے گھر میں نظربند ہیں اور انہیں اپنی گرفتار ی پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ ترجمان نے کہاکہ اس کے بعد پولیس ٹیم اس سلسلے میں اعلیٰ حکام سے مزید  ہدایات لینے کیلئے واپس چلی گئی ۔

مصنف کے بارے میں