انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نےسری لنکن ٹیم حملہ کیس کے دوملزمان کو بری کردیا

لاہور: انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سری لنکن ٹیم حملہ کیس کے دو ملزمان عبیداللہ اور ابراہیم خلیل کو بری کردیا۔لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں سری لنکن ٹیم حملہ کیس کی سماعت ہوئی، جس میں ملزمان عبیداللہ اور ابراہیم خلیل کے وکیل رانابلیغ ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان پر سری لنکن ٹیم پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کو اسلحہ اور تربیت فراہم کرنے کا الزام ہے۔ملزمان کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ملزمان کے خلاف تمام تر الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں، لہذا ملزمان کو بری کیا جائے۔جس پر عدالت نے سری لنکن ٹیم حملہ کیس میں نامزد دو ملزمان عبیداللہ اورابراہیم خلیل کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔

خیال رہے کہ مارچ 2009 میں لاہور کے لبرٹی چوک میں دہشت گردوں نے سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں سری لنکن کرکٹ ٹیم کے چھ کھلاڑی زخمی ہوئے جبکہ مہمانوں کو بچاتے ہوئے چھ پاکستانی پولیس اہلکار اور دو شہری ہلاک ہوئے تھے۔ دہشت گردی کے اس واقعے کے بعد سے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے بند ہوگئے۔ سری لنکن ٹیم حملہ کیس کے چھ ملزمان قاری زبیر عرف نیک، عدنان ارشد، عبدالوہاب، جاوید انور، ابراہیم جلیل اور عبیداللہ پر جون 2016 میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔گزشتہ برس ہی سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے کے 3 ملزمان قاری زبیرعرف نیک محمد، عبدالوہاب اور عدنان ارشد مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

سری لنکن ٹیم حملہ کیس میں نامزد کالعدم تنظیم کے سربراہ ملک اسحاق بھی ایک مقابلے میں ہلاک ہو چکے ہیں، ملک اسحاق پر سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے کا ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام تھا۔ سری لنکن کرکٹ ٹیم حملہ کیس اے ٹی سی سے فوجی عدالت کو منتقل کیا گیا تھا جسے بعد میں دوبارہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں منتقل کردیا گیا.

مصنف کے بارے میں