مسجد نبوی میں پاکستانی متعکفین کی تعداد سب سے زیادہ

رمضان المبارک اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے۔ واقعی رمضان مسلمانوں پر اللہ کا خاص انعام ہے کہ جس میں مغفرت رحمت عنایت کی بارش ہوتی رہتی ہے۔

آخری عشرے میں اللہ کے نیک بندے اللہ کو راضی کرنے کے لیے زیادہ تر وقت عبادات میں صرف کررہے ہیں۔بہت سے لوگ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور رب کی خوشنودی کی خاطر رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کے لیے مساجد میں بیٹھے ہیں۔
یقیناً ہرمسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ رمضان اور اعتکاف حرمین شریفین میں گزارے۔لیکن بہت سے لوگ مسائل کی وجہ سے نہیں آپاتے لیکن بہرحال حج کی طرح دنیا بھر سے مسلمان کثیر تعداد میں رمضان اور اعتکاف کے لیے حرمین شریفین آتے ہیں۔

اس سال بھی حسب معمول رمضان اور اعتکاف کی وجہ سے ہر وقت حرمین شریفین کھچا کھچ بھرے رہتے ہیں۔خصوصاً  اعتکاف کی وجہ سے ان دنوں تو حرمین شریفین میں نماز کے لیے جگہ بھی بہ مشکل مل پاتی ہے۔

اسی وجہ سے مسجد الحرام میں تو نماز سے 1 گھنٹہ پہلے لوگوں کو رش کی وجہ سے اندر جانے سے روک دیا جاتا ہے۔جب کہ مسجدنبوی میں اگرچہ یہ کیفیت نہیں ہوتی لیکن نماز کے لیے بہت جلدی آنا پڑتا ہے ورنہ عین وقت پر مسجد نبوی میں جگہ ملنا مشکل ہوجاتا ہے۔

اس رش کی اصل وجہ اعتکاف کرنے والے ہیں۔جو یقینا سنت رسول کی پیروی میں 10 دن کے لیے حرمین شریفین میں بیٹھے ہیں۔
ویسے تو حرمین شریفین میں اعتکاف والوں کی باقاعدہ رجسٹریشن کی گئی ہے اور انہیں خصوصی کارڈ اور خصوصی جگہیں دی گئی ہیں۔لیکن پھر بھی کثیر تعداد بغیر رجسٹریشن کے اعتکاف میں بیٹھی ہے۔ مسجد نبوی میں اعتکاف بیٹھنے والوں کی تعداد تقریباً  پندرہ بیس ہزار کے لگ بھگ ہے جبکہ غیر رجسٹرڈ اس سے بھی زیادہ ہیں۔

حیرت اور اعزاز کی بات یہ ہے کہ اعتکاف بیٹھنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد پاکستانیوں کی ہے۔جن میں سے زیادہ تر لوگ خصوصی طور پر پاکستان سے آئے ہیں اور جب کہ کچھ پاکستانی متعکفین  کی تعداد بھی اعتکاف میں بیٹھی ہوئی ہے۔

اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے کچھ لوگ یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ پاکستانیوں نے تو مسجد نبوی پر قبضہ کررکھا ہے۔
خیر حرمین شریفین تو مسلمانوں کی اجتماعی عبادات گاہیں ہیں۔یہ تو نصیب کی بات ہے کہ ان میں عبادت کرنے کے لیے توفیق کس کو زیادہ ملتی ہے۔

اللہ تعالیٰ  سب کی دعائیں  قبول فرمائے اور رمضان کے باقی دنوں کو قیمتی بنانے کی توفیق دے۔

 

غلام نبی مدنی  روزنامہ نئی بات میں کالم لکھتے ہیں