این اے 53، عمران خان کی اپیل پر ریٹرننگ افسر کو نوٹس جاری

این اے 53، عمران خان کی اپیل پر ریٹرننگ افسر کو نوٹس جاری

ریٹرننگ افسر کے فیصلے کیخلاف عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے اپیلیٹ ٹریبونل میں اپیل دائر کی تھی۔۔۔فائل فوٹو

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے آج عمران خان کی اپیل پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے وکیل بابر اعوان عدالت میں پیش ہوئے۔

 

بابر اعوان نے عدالت کے روبرو دلائل دیتے ہوئے کہا کلہ عمران خان پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے چیئرمین ہیں جو عوام کے بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: بنی گالا میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کا دھرنا چوتھے روز بھی جاری

بابر اعوان نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان نے این اے 53 سے انتخابات لڑنے کے لیے کاغذات جمع کرائے اور 19 جون کو ان کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کی گئی جبکہ کمزور بنیاد پر ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے۔

 

جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ ریٹرننگ افسر (آر او) نے عمران خان کو کیوں نااہل قرار دیا جس پر بابر اعوان نے جواب دیا کہ کاغذات نامزدگی میں درخواست گزار نے حقائق چھپائے نا غلط بیانی کی آر او کا فیصلہ غیر منصفانہ ہے۔

 

ساتھ ہی انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ریٹرننگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر کاغذات نامزدگی منظور کیے جائیں . سماعت کے بعد جسٹس محسن اختر کیانی نے عمران خان کی اپیل پر ریٹرننگ افسر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ریکارڈ طلب کر لیا اور سماعت کل تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

 

یہ بھی پڑھیں: شہباز شریف کا ویڈیو بنانے والے شخص کو کرارا جواب

واضح رہے کہ جسٹس اینڈ ڈیمو کریٹک پارٹی کے امیدوار عبدالوہاب کی جانب سے عمران خان کے خلاف اعتراضات ریٹرننگ افسر کو جمع کرائے گئے تھے  جس پر دونوں فریقین کے وکلاء کی جانب سے دلائل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ افسر (آر او) نے 19 جون کو فیصلہ سنایا اور بیان حلفی کی شق 'این' کے تحت طے شدہ طریقہ کار کے مطابق نہ ہونے پی ٹی آئی چیئرمین کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیئے گئے۔

 

ریٹرننگ افسر کے فیصلے کے خلاف عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے اپیلیٹ ٹریبونل میں اپیل دائر کی تھی۔

 

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں