صحافی کے قتل کے خلاف مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال جاری ، مظاہرے

صحافی کے قتل کے خلاف مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال جاری ، مظاہرے

image by facebook

سری نگر :معروف کشمیری صحافی سید شجاعت بخاری کے قتل کے خلاف مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال ، کاروبارزندگی مفلوج ہو گیا ، عالمی سطح پر بھی اس اقدام کی مذمت کی گئی۔

 

تفصیلات کے مطابق معروف کشمیری صحافی سید شجاعت بخاری کے قتل کے خلاف مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال ، کاروبارزندگی مفلوج ہو گیا ، عالمی سطح پر بھی اس اقدام کی مذمت کی گئی۔

 

 

پچاس سالہ شجاعت بخاری انگریزی روزنامے 'کے مدیرِ اعلیٰ تھے جنہیں نامعلوم افراد نے 14 جون کی شام کو اُس وقت گولیاں مارکر قتل کردی اتھا جب وہ سرینگر کے مشتاق پریس اینکلیو میں واقع اپنے دفتر سے نکل کر گھر جانے کے لیے گاڑی میں بیٹھ رہے تھے۔

 

اس حملے میں اُن کے دو ذاتی محافظ حمید چوہدری اور ممتاز اعوان بھی ہلاک ہوئے تھے ، حملے کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہےلیکن پولیس نے اس قتل کا الزام کشمیر میں سرگرم عسکریت پسندوں پر عائد کیا ہے۔

 

شجاعت بخاری کے قتل کی بین الاقوامی سطح پر مذمت کی جارہی ہے، وہ اردو روزنامے 'بلند کشمیر'، کشمیری اخبار 'سنگرمال' اور اردو ہفت روزہ 'پرچم' کے مدیر و مالک بھی تھے اور کشمیر کے مسئلے پر بین الاقوامی سطح پر ہونے والے غیر سرکاری رابطوں اور مذاکرات میں بھی خاصے سرگرم تھے۔

 

اس حملے میں اُن کے دو ذاتی محافظ حمید چوہدری اور ممتاز اعوان بھی ہلاک ہوئے تھے ، حملے کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے۔ لیکن پولیس نے اس قتل کا الزام کشمیر میں سرگرم عسکریت پسندوں پر عائد کیا ہے۔

 

شجاعت بخاری کے قتل کی بین الاقوامی سطح پر مذمت کی جارہی ہے ، وہ اردو روزنامے 'بلند کشمیر'، کشمیری اخبار 'سنگرمال' اور اردو ہفت روزہ 'پرچم' کے مدیر و مالک بھی تھے اور کشمیر کے مسئلے پر بین الاقوامی سطح پر ہونے والے غیر سرکاری رابطوں اور مذاکرات میں بھی خاصے سرگرم تھے۔

 

جمعرات کو ہڑتال کی وجہ سے مسلم اکثریتی وادئ کشمیر میں کاروبارِ زندگی مفلوج ہے ، ہڑتال کی اپیل استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والے کشمیری قائدین کے اتحاد 'مشترکہ مزاحمتی قیادت' نے دی ہے۔