طالب علم زیادتی کیس، عزیز الرحمان کے شریک ملزم عبداللہ نے عبوری ضمانت لے لی

طالب علم زیادتی کیس، عزیز الرحمان کے شریک ملزم عبداللہ نے عبوری ضمانت لے لی
سورس: فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

لاہور: صوبائی دارالحکومت لاہور میں مدرسے کے طالب علم کے ساتھ زیادتی کے کیس میں ملزم عزیر الرحمان کے شریک ملزم عبداللہ نے سیشن کورٹ سے عبوری ضمانت لے لی ہے۔ 

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج نے ملزم عبداللہ کو شامل تفتیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے 50 ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ ملزم عبداللہ پر زیادتی کا شکار طالب علم صابر شاہ کو دھمکیاں دینے کا الزام ہے جبکہ عدالت نے پولیس سے 30 جون کیلئے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ 

دوسری جانب گزشتہ روز میانوالی سے گرفتار کئے گئے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عزیر الرحمان نے دوران تفتیش اعتراف جرم کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ وہ ویڈیو میری ہی ہے جو طالب علم صابر شاہ نے چھپ کر بنائی اور میں نے صابر کو پاس کرنے کا جھانسہ دے کر ہوس کا نشانہ بنایا۔

واضح رہے کہ چند روز قبل سوشل میڈیا پر مفتی عزیز الرحمان کی طالب علم سے زیادتی کی ویڈیو سوشل پر وائرل ہوئی تھی جس کے بعد پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے مرکزی ملزم مفتی عزیز الرحمان کو میانوالی سے، ملزم عتیق الرحمان کو کاہنہ میں واقع مدرسے سے، عزیز الرحمان کے تیسرے بیٹے لطیف الرحمان کو بیدیاں روڈ سے اور الطاف الرحمان کو لکی مروت سے گرفتار کیا تھا۔ 

پولیس تفتیش میں ملزم عزیز الرحمان نے اعتراف جرم کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ مدرسے کے منتظمین اور مہتمم ویڈیو کے بعد مدرسہ چھوڑنے کا کہہ چکے تھے اور میں مدرسہ چھوڑنا نہیں چاہتا تھا اس لئے ویڈیو بیان جاری کیا۔ ملزم عزیز الرحمان نے تفتیش میں انکشاف کیا کہ مقدمہ درج ہونے کے بعد ٹاﺅن شپ، شیخوپورہ اور فیصل آباد میں شاگردوں کے پاس ٹھہرتا رہا۔ 

ملزم عزیز الرحمان نے مزید بتایا کہ میری اور بیٹوں کی فون لوکیشن ٹریس ہوئی اور جب میں میانوالی میں چھپا ہوا تھا تو پولیس نے گرفتار کر لیا، میں بھٹک گیا تھا اور اپنے کئے پر بہت شرمندہ ہوں۔