طالب علم زیادتی کیس، ملزم عزیز الرحمان بیٹوں سمیت جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

 طالب علم زیادتی کیس، ملزم عزیز الرحمان بیٹوں سمیت جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے
سورس: فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

لاہور: صوبائی دارالحکومت لاہور میں مدرسے کے طالب علم سے زیادتی کے کیس میں گرفتار ملزم مفتی عزیز الرحمان اور اس کے بیٹوں کو 4 دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق پولیس نے کینٹ کچہری لاہور میں ملزمان کو جوڈیشل مجسٹریٹ رانا ارشد علی کے روبرو پیش کیا گیا۔ ملزموں کو عدالت میں چہرے ڈھانپ کر لایا گیا، پولیس کی جانب سے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی جس پر جوڈیشل مجسٹریٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا جو کچھ دیر بعد سنایا گیا۔ 

جوڈیشل مجسٹریٹ نے ملزم عزیز الرحمان کا ڈی این اے اور میڈیکل کرانے کی بھی ہدایت جاری کی جبکہ پولیس پیشی کے بعد ملزمان کو لے کر کینٹ کچہری سے واپس روانہ ہوگئی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز میانوالی سے گرفتار کئے گئے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عزیر الرحمان نے دوران تفتیش اعتراف جرم کرلیا ہے، ملزم نے تفتیش میں انکشاف کیا ہے کہ وہ ویڈیو میری ہی ہے جو طالب علم صابر شاہ نے چھپ کر بنائی اور میں نے صابر کو پاس کرنے کا جھانسہ دے کر ہوس کا نشانہ بنایا۔

دوسری جانب ملزم عزیز الرحمان کے شریک ملزم عبداللہ نے سیشن کورٹ سے عبوری ضمانت لے لی ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج نے ملزم عبداللہ کو شامل تفتیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے 50 ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی۔ ملزم عبداللہ پر زیادتی کا شکار طالب علم صابر شاہ کو دھمکیاں دینے کا الزام ہے جبکہ عدالت نے پولیس سے 30 جون کیلئے رپورٹ طلب کرلی ہے۔