قومی اسمبلی میں آرمی ایکٹ 2017 کا ترمیمی بل اکثریت کیساتھ منظور

اسلام آباد: پاکستان آرمی ایکٹ 2017 میں ترامیم کا بل قومی اسمبلی میں منظور کر لیا گیا۔ 253 ارکان نے پاکستان آرمی ایکٹ ترمیمی بل کے حق میں ووٹ دیے۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں فوجی عدالتوں سے متعلق پاکستان آرمی ایکٹ ترمیمی بل کو منظوری کے لیے پیش کیا گیا جس کی ایوان میں شق وار منظوری کے بعد بل کو منظور کرلیا گیا۔بل میں اپوزیشن کی ترامیم مسترد کردی گئیں، جمشیددستی،ایس اےقادری ،نعیمہ کشور ، شیراکبر کی ترامیم کو مستردکیا گیا۔

قومی اسمبلی میں آرمی ایکٹ 2017 کا ترمیمی بل اکثریت کیساتھ منظور

اسلام آباد: پاکستان آرمی ایکٹ 2017 میں ترامیم کا بل قومی اسمبلی میں منظور کر لیا گیا۔ 253 ارکان نے پاکستان آرمی ایکٹ ترمیمی بل کے حق میں ووٹ دیے۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں فوجی عدالتوں سے متعلق پاکستان آرمی ایکٹ ترمیمی بل کو منظوری کے لیے پیش کیا گیا جس کی ایوان میں شق وار منظوری کے بعد بل کو منظور کرلیا گیا۔بل میں اپوزیشن کی ترامیم مسترد کردی گئیں، جمشیددستی،ایس اےقادری ،نعیمہ کشور ، شیراکبر کی ترامیم کو مستردکیا گیا۔


آئینی ترمیم کے شق وار منظوری سے قبل مسلم لیگ (ض) کے سربراہ اعجاز الحق نے کہا کہ پاکستان میں 60 ہزار لوگ دہشت گردی میں شہید ہوئے، دنیا بھر میں دہشت گردی میں کہیں اتنے لوگ شہید نہیں ہوئے، فوجی عدالتیں زبردستی نہیں بنیں تمام جماعتوں نے فیصلہ کیا اور آئین میں ترمیم کرکے جمہوری طریقے سے فوجی عدالتیں بنائیں۔دوسری جانب ایوان میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے 2 برس کے لیے پارلیمانی سلامتی کمیٹی کے قیام کے لیے بھی قرارداد پیش کی۔