زیادہ گرم چائے یا کافی سرطان کے خطرے کا موجب بن سکتی ہے:تحقیق

زیادہ گرم چائے یا کافی سرطان کے خطرے کا موجب بن سکتی ہے:تحقیق
image by facebook

لاہور : ایک جدید طبی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیادہ گرم چائے یا کافی پینے سے سرطان کا خطرہ دو گنا ہو سکتا ہے۔


تحقیقاتی مطالعے کے مطابق جو لوگ باقاعدگی کے ساتھ 60 ڈگری سینٹی گریڈ (140 ڈگری فارن ہائٹ) یا اس سے زیادہ گرم چائے کا استعمال کرتے ہیں ان کے غذا کی نالی کے سرطان میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہےتاہم گرم چائے یا یا کافی کو کچھ دیر ٹھنڈا ہونے کے بعد پینا طبی طور پر بہتر شمار کیا جاتا ہے۔

مذکورہ طبی تحقیق "انٹرنیشنل کینسر میگزین" میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق میں 10 برس تک 5045 افراد کی پینے کی عادات کا جائزہ لیا گیا۔ ان افراد کی عمر 40 سے 70 برس کے درمیان تھی۔جائزے کے دوران غذا کی نالی کے سرطان کے 317 نئے کیس سامنے آئے۔

محققین نے دو گروپوں کے درمیان موازنہ کیا۔ ایک گروپ نے روزانہ 700 ملی لیٹر یا اس سے کم مقدار میں چائے پی جس کا درجہ حرات 60 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم تھا۔ دوسرے گروپ نے روزانہ 700 ملی لیٹر یا اس سے زیادہ مقدار میں چائے پی جس کا درجہ حرات 60 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ ہوتا تھا۔

 نتائج سے یہ بات سامنے آئی کہ بہت زیادہ گرم مشروب نے غذا کی نالی کے سرطان میں مبتلا ہونے کا تناسب 90% بڑھا دیا۔یاد رہے کہ تحقیق میں شامل اکثر افراد نے تصدیق کی کہ وہ گرم چائے یا کافی سے لطف اندوز ہونا پسند کرتے ہیں۔

امریکی کینسر سوسائٹی نے ہدایت کی ہے کہ زیادہ گرم شروبات کو پینے سے قبل ان کے ٹھنڈے ہونے کا انتظار کیا جانا چاہیے تا کہ مختلف طبی مسائل سے بچا جا سکے۔