کرونا کے پیش نظر پرائیویٹ یونیورسٹیز کی وزیر اعظم سے خصوصی اپیل

کرونا کے پیش نظر پرائیویٹ یونیورسٹیز کی وزیر اعظم سے خصوصی اپیل

لاہور(تعلیمی رپورٹر)ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیز پاکستان نے ملکی حالات کے پیش نظر وزیر اعظم پاکستان سے پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے لیے ”تعلیمی ریلیف پیکیج “ کی استدعا کردی۔


چئیرمین ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیز پاکستان پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمان کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کے نام خط ارسال کردیا گیا۔خط میں وزیر اعظم سے استدعا کی گئی ہے کہ آپ کی توجہ ایک اہم مسئلے کی جانب دلانا چاہتے ہیں، اُمید ہے کہ آپ اس مشکل گھڑی میں ہمارے مسائل کو سمجھتے ہوئے ہوئے ملکی مفاد میں اہم فیصلے صادر فرمائیں گے۔ ہم سب کے علم میں ہے کہ کرونا وائرس کی عالمی وباءکے پیش نظر’ قومی ایمرجنسی‘ کے اس دور میں جب ہر چیز لاک ڈاؤن کی طرف جا رہی ہے، ایجوکیشن سیکٹر بھی بری طرح متاثر ہورہا ہے۔

عزت مآب وزیرا عظم اس قومی بحران کے موقع پر پرائیویٹ یونیورسٹیاں ’کرونا وائرس‘ کے خلاف جنگ میں ہمہ وقت آپ کے ساتھ کھڑی ہیں۔اس حوالے سے آپ کی حکومت کا ہر عمل ہمارے لیے ایک فرض کی حیثیت رکھتا ہے۔ لہٰذااس بحرانی کیفیت میں ہمیں اپنے اساتذہ کے لیے جن کا تمام تر انحصار ہم پر ہے، آپ کی مالی سپورٹ درکار ہے تاکہ وہ اپنے خاندان کی کفالت کر سکیں اور کسی بحرانی کیفیت کا شکار نہ ہوں۔ جناب وزیر اعظم یہ وقت قومی یکجہتی کا ہے ، اس لیے اُمید ہے کہ آپ ہمیں اس پریشانی سے نکلنے میں مدد فراہم کریں گے۔

اس کے لیے چند تجاویز آپ کی گوش گزار کرنا چاہتے ہیں تاکہ ہم ان مشکل حالات میں اپنے آپ کو اور اپنے سٹاف کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکیں۔ وزیر اعظم کو پیش کی گئی تجاویز میں کہا گیا ہے کہ اساتذہ کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں، اس لیے ہماری سب سے پہلی ترجیح ہی ہمارے اساتذہ ہونے چاہیے۔لہٰذا اس گھمبیر صورتحال میں جب تک لاک ڈاؤن کی کیفیت ہے ، حکومت ان یونیورسٹیوں کے تدریسی و غیر تدریسی سٹاف کی تنخواہیں ادا کرکے نجی ایجوکیشن سیکٹر کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) لاک ڈاؤن کے دوران بجلی کے بلوں میں 50فیصد رعایت فراہم کرے۔

3۔رواں مالی سال میں پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے ذمہ تمام واجب الادا سالانہ فیس/ریگولیٹری فیس/ایکریڈیشن باڈیز کو ختم کر دیا جائے ۔ لاک ڈاؤن کی اس صورتحال میں جن نجی یونیورسٹیوں نے کمرشل بینکوں سے قرض لیا ہے انہیں بھی مالی نرمی دی جائے،اور حکومت بینکوں کو نجی یونیورسٹیوں کے قرضوں کو دوبارہ ترتیب دینے یا ری شیڈول کرنے کی ہدایت کرے۔

حکومت اس تجویز پر بھی غور کرے کہ نجی شعبے کی یونیورسٹیوں کو خصوصی طویل مدتی سود سے پاک قرضوں کی پیش کش کی جانی چاہئے۔تاکہ بحران کے مالی اثرات کو کم سے کم تر کیا جاسکے۔ پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمان کا خط میں کہنا ہے کہ جناب وزیرا عظم اس حوالے سے دی جانے والی سہولیات تعلیمی میدان میں ایک بڑا قدم ہوگا جسےہر سطح پر سراہا جا ئے گا اور ہم بطور قوم اس اقدام سے تعلیمی میدان میں مزید پیچھے جانے سے بچ جائیں گے۔خط میں دعائیہ کلمات ادا کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہاس مشکل گھڑی میں اللہ تعالی ہم سب کو کامیابی سے ہمکنار کرے ، اکٹھے مل کر اس مہلک وائرس کا مقابلہ کرنے کی توفیق دے اور نجی ایجوکیشن سیکٹر کو اس مشکل دوراہے میں آپ کی وساطت سے نکلنے میں مدد کرے (آمین)۔