کورونا کی ویکسین لگوانا ضروری ہے، صدر مملکت

کورونا کی ویکسین لگوانا ضروری ہے، صدر مملکت
کیپشن: کورونا کی ویکسین لگوانا ضروری ہے، صدر مملکت
سورس: فائل فوٹو

اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کورونا کی ویکسین لگوانا ضروری ہے اور یہ حفاظتی ٹیکے 100 فیصد موثر ہیں۔ افواہیں پھیلانے والوں سے ہوشیار رہیں کیونکہ وہ اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔

تفصیلات کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آج ایک ٹویٹ میں کہا کورونا ویکسین کی دو خوراکیں دی جاتی ہیں اور اس کے موثر ہونے میں چند ہفتے لگتے ہیں۔ زیادہ تر کیسوں میں یہ سو فیصد موثر ہے اور دیگر میں انفیکشن کی شدت کے باعث شرح اموات میں کمی آتی ہے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ افواہیں پھیلانے والوں سے ہوشیار رہیں کیونکہ وہ اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔

خیال رہے کہ نیشنل کمانڈ اینڈ آُپریشن سینٹر (این سی او سی) کی جانب سے جاری ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق عالمی وبا سے مزید 44 پاکستانی جاں بحق ہو گئے ہیں جبکہ گزشتہ روز 3667 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔

این سی او سی کی جانب سے جاری ڈیٹا کے مطابق اموات میں حالیہ اضافے سے ملک بھر میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد تیرہ  ہزار آٹھ سو ترتالیس تک جا پہنچی ہے جبکہ اس عالمی وبا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد چھ لاکھ لاکھ چھبیس ہزار آٹھ سو دو ہے۔

پاکستان میں اس وقت عالمی وبا کے فعال مریضوں کی تعداد اکتیس  ہزار ایک سو سات جبکہ پانچ لاکھ اکیاسی ہزار آٹھ سو باون افراد اس مرض سے صحت یاب ہو کر نارمل زندگی گزار رہے ہیں۔

گزشتہ دنوں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور ان کی اہلیہ بیگم ثمینہ علوی نے گزشتہ دنوں عالمی وبا کورونا سے بچاؤ کیلئے ویکسی نیشن کروائی تھی۔ 

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اپنی اہلیہ کے ہمراہ کورونا کی ویکسین لگوانے کوویڈ ویکسینیشن مرکز ترلائی اسلام آباد پہنچے تھے جہاں انھیں وبائی مرض سے بچاؤ کیلئے حفاظتی ٹیکے لگائے گئے تھے۔ 

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں اشرافیہ نے لائن توڑ کر ویکسین لگوائی لیکن پاکستان میں عمر کے حساب سے اپنی باری پر حفاظتی ٹیکے لگائے جا رہے ہیں۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ حکومت نے ویکسینیشن کا آسان اور بہترین نظام بنایا ہے اور میں نے 1166 پر رجسٹر کیا اور نمبر آنے پر ویکسین لگوائی۔

ڈاکٹر عارف علوی نے عوام سے اپیل کی کہ ویکسین ملنے کے باوجود احتیاط جاری رکھیں۔ کورونا کی تیسری لہر کے پیشِ نظر ماسک پہننا، ہاتھ دھونا اور فاصلہ برقرار رکھنا جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے سمارٹ لاک ڈاؤن پالیسی اپنانے سے معاشی نقصان کم ہوا۔