سول ملٹری تناؤ کے اثرات جے آئی ٹی رپورٹ پر بھی پڑے ، نواز شریف

سول ملٹری تناؤ کے اثرات جے آئی ٹی رپورٹ پر بھی پڑے ، نواز شریف
عدالت نے تینوں ملزمان سے 127 سوالات پر مشتمل سوالنامے کا جواب طلب کر رکھا ہے۔۔۔۔فائل فوٹو

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف نے احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا ہے کہ ایم آئی اور آئی ایس آئی افسران کا جے آئی ٹی کا حصہ بننا غیر مناسب تھا۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر شریف خاندان کے خلاف ریفرنس کی سماعت کی جب کہ نامزد تینوں ملزمان نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کمرہ عدالت میں موجود تھے۔


احتساب عدالت نے تینوں ملزمان سے 127 سوالات پر مشتمل سوالنامے کا جواب طلب کیا تھا۔ آج سماعت شروع ہوئی تو سابق وزیراعظم نواز شریف نے پہلے سوال میں اپنے عوامی عہدوں کی تفصیلات پڑھ کر سنائیں۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخواءترقی کے اعتبار سے جنوبی پنجاب اور سندھ سے بھی پیچھے

نواز شریف نے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ میری عمر 68 سال ہے میں وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیراعظم پاکستان رہ چکا ہوں۔

نوازشریف نے مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل سے متعلق جواب دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر جے آئی ٹی تشکیل دی گئی لیکن مجھے جے آئی ٹی کے ممبران پر اعتراض تھا اور یہ اعتراض پہلے بھی ریکارڈ کرایا جب کہ آئین کا آرٹیکل 10 اے مجھے یہ حق دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 100 دن کا منشور دے دیا ،مجھے کیوں نکالا کا نظریہ معاشرے کی پستی کی عکاسی کرتا ہے:عمران خان

نواز شریف نے کہا کہ جے آئی ٹی ممبران کی سیاسی جماعتوں سے وابستگی ظاہر ہے جس کے ممبران میں بلال رسول سابق گورنر پنجاب میاں اظہر کے بھانجے ہیں جو (ن) لیگ کی حکومت کے خلاف تنقیدی بیانات دے چکے ہیں۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ بلال رسول کی اہلیہ تحریک انصاف کی سرگرم کارکن ہیں۔

سابق وزیراعظم نے بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ واجد ضیاء نے اپنے کزن کے ذریعے جے آئی ٹی تحقیقات کرائیں جب کہ تحقیقات میں ان کی جانبداری عیاں ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ جے آئی ٹی ممبر عامر عزیز بھی جانبدار ہیں جو سرکاری ملازم ہوتے ہوئے سیاسی جماعت سے وابستگی رکھتے ہیں جب کہ وہ پرویز مشرف دور میں میرے اور فیملی کیخلاف نیب ریفرنس نمبر 5 کی تحقیقات میں شامل رہے۔

 یہ بھی پڑھیں:الیکشن کمیشن نے جولائی کے آخری ہفتے میں انتخابات کروانے کی تجویز دیدی

 سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کے ایک اور رکن عرفان منگی کی تعیناتی کا کیس سپریم کورٹ میں ابھی تک زیر التوا ہے جنہیں جے آئی ٹی میں شامل کر دیا گیا۔ سابق وزیراعظم نے ایک اور اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایم آئی اور آئی ایس آئی افسران کا جے آئی ٹی کا حصہ بننا غیر مناسب تھا۔ موجودہ سول ملٹری تعلقات میں تناؤ کے اثرات جے آئی ٹی رپورٹ پر پڑے۔

نواز شریف نے کہا کہ سول ملٹری تناؤ پاکستان کی تاریخ کے 70 سال سے زائد عرصے پر محیط ہے اور پرویز مشرف کی مجھ سے رقابت 1999 سے بھی پہلے کی ہے جنہوں نے جے آئی ٹی رکن عامر عزیز سے حدیبیہ پیپر ریفرنس میں ہمارے خلاف تحقیقات کرائیں۔

نواز شریف نے کہا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف علاج کے بہانے بیرون ملک گئے اور اس وقت خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان کے خلاف سنگین غداری کیس کے بعد تعلقات میں مزید بگاڑ پیدا ہوا۔ نواز شریف نے سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے حکم کو نامناسب اور غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے میرا شفاف ٹرائل کا حق متاثر ہوا۔

 یہ بھی پڑھیں:سرفراز احمد کو بطور کپتان 97 سالہ عالمی ریکارڈ توڑنے کا موقع مل گیا

  

سابق وزیراعظم نواز شریف نے حدیبیہ پیپرز ملز سے متعلق اپنے جواب میں کہا کہ مجھے پرویز مشرف کے دور آمریت میں جلا وطن کر دیا گیا اور زیادہ عرصہ باہر رہنے کے سبب حدیبیہ پیپر ملز کے طویل مدتی قرض کا علم نہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ حدیبیہ پیپر ملز کے معاملات میرے مرحوم والد دیکھتے تھے جب کہ جے آئی ٹی میں طارق شفیع کے جمع کرائے گئے حلف نامے کا عینی شاہد نہیں ہوں۔

نواز شریف نے کہا کہ طارق شفیع کے بیان حلفی سے ظاہر ہوتا ہے کہ گلف اسٹیل قرض کی رقم سے بنائی گئی، گلف اسٹیل کے 25 فیصد حصص کی فروخت کے معاہدے سے متعلق ایم ایل اے پیش نہیں کیا گیا جب کہ معاہدے پر شہباز شریف اور طارق شفیع کی طرف سے دستخطوں سے انکار سے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا، طارق شفیع اور شہباز شریف نے میری موجودگی میں دستخطوں سے انکار نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ 12 اکتوبر 1999 کو مجھے حراست میں لے لیا گیا اور سعودی عرب بھجوادیا گیا، میرے علم میں ہے کہ میرے والد نے حسین اور مریم نواز کو حدیبیہ پیپر ملز کا ڈائریکٹر جب کہ حسن نواز کو حدیبیہ پیپر ملز کا شیئر ہولڈر نامزد کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:ٹیکساس اسکول فائرنگ میں جاں بحق پاکستانی طالبہ کی میت کل پاکستان پہنچے گی

یاد رہے کہ پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں نیب کے گواہ تھے اور وہ اپنا بیان قلمبند کروا چکے ہیں۔سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے، جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق ہیں۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں