نااہلی کیس: بھاری بھرکم تنخواہ اور اقامہ بلا وجہ تو نہیں دیا جاتا، جسٹس عمر عطاء بندیال

نااہلی کیس: بھاری بھرکم تنخواہ اور اقامہ بلا وجہ تو نہیں دیا جاتا، جسٹس عمر عطاء بندیال

image by face book

اسلام آباد :نااہلی کے خلاف خواجہ آصف کی اپیل پر سماعت کے دوران جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیے کہ دوبارہ حکومت ملی تو ہو سکتا ہے کہ خواجہ آصف دوبارہ وفاقی وزیر ہوں۔


نا اہلی کے خلاف خواجہ آصف کی اپیل پر سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کر رہا ہے۔خواجہ آصف کے وکیل منیر ملک نے مؤقف اختیار کیا کہ تحریری دلائل جمع کروا چکا ہوں، پٹیشن میں دبئی بینک اکاونٹ چھپانے کا الزام نہیں تھا، یہ الزام بعد میں جواب الجواب کے وقت لگایا گیا۔

منیر ملک نے کہا کہ غیر ملکی آمدن پر الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ حتمی ہو چکا، طے شدہ معاملے پر دوبارہ درخواست قانون کے مطابق نہیں دی جا سکتی۔

جسٹس فیصل عرب نے استفسار کیا کہ یہ بتائیں کن حالات میں 62 ون ایف لگایا گیا؟

وکیل خواجہ آصف نے بتایا کہ ان کے موکل پر کرپشن کا الزام نہیں ہے۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ الزام کاغذات نامزدگی میں غلط بیانی کا ہے۔

انہوں نے پوچھا کہ کیا جس کے پاس خواجہ آصف ملازمت کرتے تھے ان کا پاکستان میں بھی کاروبار ہے؟

 

جسٹس عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا کہ خواجہ آصف کی تنخواہ میں اضافہ کارکردگی کی بنیاد پر ہوا؟خواجہ آصف کے وکیل نے بتایا کہ ان کے موکل کی تنخواہ پہلے تنخواہ 9 ہزار، پھر 30 ہزار اور پھر 50 ہزار درھم تھی، اچھے مشورے دینے پر تنخواہ میں اضافہ ہوا۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے پوچھا کہ کیا خواجہ آصف نے اپنی تنخواہ بڑھانے کے لیے اپنے عہدے کا استعمال کیا؟منیر ملک نے بتایا کہ ہائی کورٹ میں ایسا کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا۔

یہ بھی پڑھیئے:نااہلی کیس اپیل: بھاری بھرکم تنخواہ اور اقامہ بلا وجہ تو نہیں دیا جاتا، جسٹس عمر عطاء بندیال
 
 

جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ خواجہ آصف نے کاغذات نامزدگی میں تنخواہ صفر بتائی۔وکیل خواجہ آصف نے بتایا کہ ان کے موکل کی غیر ملکی آمدن میں تنخواہ بھی شامل تھی، کاروباری آمدن زیادہ ہونے پر پیشہ کاروبار بتایا۔منیر ملک نے بتایا کہ خواجہ آصف دبئی میں ہوٹل کا بزنس ختم کر کے پیسہ پاکستان لائے، 2013 سے قبل خواجہ آصف کی غیر ملکی آمدن ہوٹل اور ملازمت سے تھی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 2013 کے بعد خواجہ آصف کی غیر ملکی آمدن صرف تنخواہ سے ہے۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا کہ خواجہ آصف کو 2010 میں 3 کروڑ 40 لاکھ کی غیر ملکی ترسیلات موصول ہوئیں؟خواجہ آصف کے وکیل نے بتایا کہ ان کے موکل نے اس آمدن کو اپنے گوشواروں میں ظاہر کیا، خواجہ آصف کا دبئی میں ہوٹل کا 1980سے کاروبار ہے اور خواجہ آصف 2010 میں دبئی میں ملازمت اور ہوٹل کا کاروبار کرتے تھے۔

منیر ملک نے بتایا کہ گوشواروں میں خواجہ آصف نے اپنی آمدن کے ذرائع ظاہر کیے ہیں۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے پوچھا کہ دبئی کا بینک اکاؤنٹ ظاہر نہ کرنے کے معاملے پر کیا موقف ہے؟وکیل درخواست نے بتایا کہ 2010 میں خواجہ آصف نے دبئی بینک میں 5 ہزار درہم سے اکاؤنٹ کھولا جو 2015 میں بند ہو گیا تھا۔

خواجہ آصف کے وکیل نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کے گوشواروں میں دبئی اکاؤنٹ کو ظاہر کر دیا گیا ہے۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا کہ آپ کا مطلب ہے کہ اس اکاؤنٹ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا گیا؟

وکیل خواجہ آصف نے کہا کہ قانون کسی رکن اسمبلی کو ملازمت کرنے سے منع نہیں کرتا۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ بھاری بھرکم تنخواہ اور اقامہ بلا وجہ تو نہیں دیا جاتا، کچھ تو فائدہ دیکھ کر ہی اتنا بھاری معاوضہ دیا جاتا تھا۔

منیر ملک نے کہا کہ کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت خواجہ آصف نہ ایم این اے تھے اور ہی وفاقی وزیر تھے۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیے کہ دوبارہ حکومت ملی تو ہو سکتا ہے خواجہ آصف دوبارہ وفاقی وزیر ہوں۔

خیال رہے کہ تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف کو آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دیا تھا۔جب کہ خواجہ آصف نے اپنی نااہلی کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا  تھا۔