سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنے کا ازخود نوٹس لے لیا

سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنے کا ازخود نوٹس لے لیا

اسلام آباد: فیض آباد انٹر چینج پر مذہبی جماعت کے دھرنا آج 16ویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے دھرنے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے سیکریٹری دفاع اور سیکریٹری داخلہ سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ عدالت نے آئی جی اسلام آباد، آئی جی پنجاب اور اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کر دیا۔


عدالت نے کہا کہ بتایا جائے کہ عوام کے بنیادی حقوق کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب حکومت اور مذہبی جماعت کے درمیان دھرنا ختم کرنے کے حوالے سے ہونے والے تمام اجلاس بے سود رہے اور کوئی فریق اپنے مطالبے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔

دھرنے کے باعث کئی اہم شاہراہوں کو کنٹینر لگا کر بند کیا گیا ہے جس کی وجہ سے اسکول و کالج جانے والے طلبا و طالبات کو طویل سفر طے کر کے اپنی منزل پر پہنچنا پڑتا ہے۔ اسی طرح دفاتر میں کام کرنے والے ملازمین بھی شدید پریشان ہیں۔ دھرنا ختم کرنے کے لئے گزشتہ روز پنجاب ہاؤس میں حکومت اور دھرنا وفد کے درمیان ڈھائی گھنٹے تک جاری رہنے والے مذاکرات کا کوئی مثبت نتیجہ نہ نکلا تاہم ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔

دھرنے کی قیادت کرنے والے علامہ خادم رضوی کا موقف ہے کہ وزیر قانون زاہد حامد کا استعفیٰ پہلے ہو گا اور مطالبات پورے ہونے تک دھرنا ختم نہیں کیا جائے گا۔ دوسری جانب وزیر داخلہ احسن اقبال کئی بار کہہ چکے ہیں کہ مذاکرات کے ذریعے مظاہرین کو قائل کرنے کی کوشش کی جائے گی تاہم طاقت کا استعمال آخری آپشن ہو گا۔

یار رہے گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی حکومت کو دھرنا مظاہرین کو فیض آباد انٹرچینج سے ہٹانے کی ہدایت کی تھی جس پر وزیر داخلہ نے عدالت سے 48 گھنٹوں کی مہلت طلب کی تھی ۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں