جنوبی وزیرستان میں پیش آنے والے واقعہ پر تشویش ہے : ایچ آرسی پی

جنوبی وزیرستان میں پیش آنے والے واقعہ پر تشویش ہے : ایچ آرسی پی

لاہور:پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) نے جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں حال ہی میں پیش آنے والے ایک واقعہ پر تشویش کا اظہار کیا ہے جہاں ایک امن کمیٹی نے علاقے میں تقریباً ہر قسم کی سماجی،ثقافتی سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی ہے، اپنے خاندان کے کسی مرد کے بغیر خواتین کے گھر سے باہر نکلنے اور مقامی لوگوں کو رات دس بجے کے بعد عوامی مقامات پر جانے سے بھی روک دیا گیا ہے،اس قسم کی اطلاعات کا ایک ایسے وقت پر منظر عام پر آنا اور زیادہ تشویش کا باعث ہے جب جنوبی وزیرستان کے علاقے لدھا کے دیہاتوں شکتوئی، سمال اور بوبارھ میں ایک غیر اعلانیہ فوجی آپریشن کی خبریں بھی گردش کر رہی تھیں۔


کمیشن نے ایک بیان میں کہا کہ ایچ آر سی پی جنوبی وزیرستان میں طالبانائزیشن کی ممکنہ بحالی کے حوالے سے ہونے والی پیش رفتوں پر فکر مند ہے۔ وانا میں طالبان امن کمیٹی کی طرف سے پمفلٹس کا اجراء جس میں انہوں نے تجویز کردہ ہدایات پر عملدرآمد کرنے بصورت دیگر سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی دی اس وجہ سے بھی لمحہ فکریہ ہے کہ جنوبی وزیرستان کے بعض علاقوں میں آپریشن جاری ہے جو اب تک طالبان کمیٹی کی سرگرمیوں پر قابو پانے میں بظاہر ناکام ہے۔

ایچ آر سی پی کو یہ جان کر شدید دکھ ہوا کہ جنوبی وزیرستان کے حکام نے اس قسم کا واقعہ رونما ہونے کی تردید کی ہے باوجود اس کے کہ پمفلٹ علاقے میں وسیع پیمانے پر تقسیم کئے گئے اور مقامی افراد واقعے کی تصدیق کر رہے ہیں۔ریاستی غیر ریاستی عناصر سمیت کسی بھی گروہ کو فاٹا میں کسی بھی پاکستانی کے حقوق پر پابندی عائد کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔