مشہور روحانی خانقاہ ’’گولڑہ شریف ‘‘ نے دھرنے کی کھل کر حمایت کردی

مشہور روحانی خانقاہ ’’گولڑہ شریف ‘‘ نے دھرنے کی کھل کر حمایت کردی

اسلام آباد:ملک کی سب سے بڑی اور مشہور روحانی خانقاہ ’’گولڑہ شریف ‘‘ نے دھرنے کی کھل کر حمایت اور حکومت کو سخت ترین وارننگ کیساتھ زاہد حامد کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی درست قرار دیا ہے۔


تفصیلات کے مطابق تحریک لبیک یارسول اللہ اور دیگر مذہبی جماعتوں کے فیض آباد میں جاری دھرنے کو بڑی کامیابی اور حکومت کے لئے شدید مشکلات پیدا ہو گیں ہیں،ملک کی سب سے بڑی اور مشہور روحانی خانقاہ ’’گولڑہ شریف ‘‘ نے دھرنے کی کھل کر حمایت اور حکومت کو سخت ترین وارننگ دے دی،زاہد حامد کے استعفیٰ کا مطالبہ درست ،منظوری تک اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہریوں کو درپیش آنے والی تکلیفیں صبر کے ساتھ برداشت کرنا ہوں گی ،حکومت نے شرکائے دھرنا کے خلاف کوئی سخت یا غیر اخلاقی قدم اٹھایا تو ملکی سلامتی کو ناقابل تلافی نقصان ہو گا ،زاہد حامد کی جان کو خطرہ ہے تو ریاست انہیں تحفظ فراہم کرے ۔

درگاہ غوثیہ مہریہ گولڑہ شریف کے گدی نشین پیر سید غلام نظام الدین جامی گیلانی قادری نے تحریک لبیک یا رسول اللہ کے قائدین پیر محمد افضل قادری ،پیر سید محمد حماد الدین جامی گیلانی سمیت دیگر علماء و مشائخ کے ساتھ گولڑہ شریف میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہاس ملک کی بقا نبی کریم ﷺ سے وفاداری اور محبت کے ساتھ مشروط ہے ،یہاں ایسا کوئی قانون نہیں بن سکتا جو نبی کریم ﷺ کی ناموس اور عظمت کے خلاف ہو،آج بھی پچاس سے زائد سجادہ نشینوں کے مجھ سے رابطے ہوئے ہیں ، لیکن ابھی کوئی واضح لائحہ عمل کا اعلان نہیں کیا ،یہ سیاسی دھرنا نہیں ہے ،اس دھرنے میں بیٹھنے والے نبی کریم ﷺ کے دیوانے  ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہمختلف حلقوں میں یہ بات گردش کر رہی ہے کہ مجھے کسی’’ خاص شخصیت ‘‘ نے اس مسئلے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے رضا مند کیا ہے ،وہ غلط ہے ،میں نے بطور ایک مسلمان اور بحثیت پاکستانی اس حساس معاملے اپنا کردار اداکرنا مناسب سمجھا ہے، میں حکومت اور تحریک لبیک کی قیادت کے درمیان ایک رابطہ کار کے طور پر متحرک ہوا ہوں ،میں نے حکومت سے بات کی اعلیٰ قیادت سے بات کی ،انہوں نے مجھے یقین دلایا کہ کوئی درمیانی راستہ نکالا جائے گا۔

 سید غلام نظام الدین جامی گیلانی کا کہنا تھا کہ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی نے جو رپورٹ مرتب کی ہے اس رپورٹ کو ابھی تک منظر عام پر نہیں لایا گیا ،ہمارا سب سے پہلے یہ مطالبہ ہے کہ اس رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے کیونکہ اس میں ذمہ دار شخصیات کا ذکر ہے ،ہم سمجھتے ہیں کہ ان اشخاص کو منظر عام پر لایا جائے تاکہ پتا چلا کہ ان شخصیات کے پیچھے کوئی خاص لابی ہے یا کوئی خاص پارٹی ؟کیونکہ اگر اس کے پیچھے کوئی خاص پارٹی ہے تو آئندہ اس ملک کے عوام یہ سمجھ کرانہیں ووٹ دیں کہ وہ ختم نبوت کے منکرین کو ووٹ دے رہے ہیں یا محافظین کو ووٹ دے رہے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ اب ہمیں علمائے دیوبند ،اہل تشیع ،اہل حدیث ،جماعت اسلامی سمیت ملک کی تمام مذہبی جماعتوں کی حمایت حاصل ہو گئی ہے ،گولڑہ شریف سمیت ملک کی تمام بڑی گدیوں کی اس دھرنے کی حمایت حاصل ہے ،، ہم ایک جائز مطالبہ لے کر یہاں بیٹھے ہیں ،اگر ہم پر ایک حملہ ہوا تو اسکا رزلٹ کیا ہو گا ؟یہ کوئی سیاسی لوگ تو ہیں نہیں کہ بھاگ جائیں گے ،یہاں بیٹھے ہوئے لوگ ختم نبوت ﷺ کے جذبے سے سرشار ہیں ،انہیں اپنی جانوں کی کوئی پرواہ نہیں ،اس دھرنے کو گولڑہ شریف کی بھی حمایت حاصل ہو گئی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ یہ دھرنا 5دس ہزار لوگوں کا نہیں بلکہ ملک بھر کے کروڑوں مسلمانوں کا ہے ،اگر یہاں پر حملہ ہوا اور شہادتیں ہوئیں تو وہ بھی ہزاروں میں ہوں گی ،اگر آپریشن ہوا تو پھر ملک میں کیا ہو گا ؟تو کیا یہ حکومت رہے ؟کیا اس ملک میں پھر امن و امان رہے گا ؟بنیادی طور پر وزیر قانون ہی اس مسئلے کا ذمہ دار ہے ،حکومت اگر ہماری جائز بات مان لیتی تو راستے بند نہ ہوتے ،پوری دنیا کے مسلمانوں کے دینی جذبات مجروح ہو رہے ہیں۔