بھارتی گاؤں جن کے ناموں سے دیہاتی شرمسار ہوجاتے ہیں 

Indian villages whose names embarrass the villagers
فوٹو : بشکریہ بی بی سی اردو

نئی دہلی : بھارت میں کئی ریاستیں ایسی ہیں جہاں کے گاؤں  کے نام ایسے ہیں کہ ان کے ناموں کی وجہ سے ہی ان  میں  رہنے والے  دیہاتی شرمندہ ہوجاتے ہیں۔ شمالی ریاستوں ہریانہ اور راجھستان میں متعدد دیہات برسوں سے اپنے وہ نام تبدیل کرنے کےلیے کوشاں ہیں جنہیں وہ اپنے لیے باعث شرمندگی سمجھتے ہیں ۔

ایک گاؤں  کی بسنے والی بچی  ہرپیت کور نے کہا کہ اس کواس کے گاؤں  کے نام سے پریشانی تھی ، کیونکہ اس کا نام ہی انتہائی برا تھا ، ان کا کہناتھاکہ میرے گاؤں  کا نام " گندا" تھا اب یہ نام کیسے گندا پڑا ، اس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ایک بار سیلاب آیا اور اس سیلاب کی وجہ سے اس کا گاؤں  بھی تباہ ہوگیا ۔ جب ڈپٹی کلیکٹر آئے تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو گندا ہے۔ اس کے بعد سے لیکر اب تک اس گاؤں کانام گندا ہی پکارا جارہاتھا۔

اس گاؤں  کی باسی ہرپیت کور نے کہا ہے کہ ہمارے رشتے دار بھی ہمیں ہمارے گاؤں کے نام سے تمسخر اڑاتے تھے ، کوئی نام بدلوانا نہیں چاہتا تھا ، کیونکہ اس کا طریقہ کار انتہائی مشکل تھا، پھر میں نے مودی جی کو خط لکھا اس میں اپنی پریشانی لکھی ، اس کے بعد اس پر عمل کرتے ہوئے ریاستی حکومت نے میرے گاؤں کا نام اب اجیت نگر رکھ دیا ہے ، یہ گاؤں ہریانہ کے شمال  میں واقع ہے ۔

پچھلے کچھ سالوں میں کئی ریاستوں کے پچاس سے زائد دیہات کے نمائندوں نے بھارتی حکومت سے نام تبدیل کروانے کے لیے درخواستیں جمع کروائی ہیں ۔ کئی نام نسل پرستانہ بھی ہیں اور کئی نام ان کے لیے باعث شرمندگی بھی ہیں ۔اس وقت پچاس میں سے 40 دیہات کی درخواستیں منظور ہوچکی ہیں ۔ان میں سے ایک گاؤں  کا نام "کنر" تھا۔ اب کنر مقامی زبان میں خواجہ سرا کو کہتے ہیں ، مگر تبدیلی کے بعد اس کا نام گینی نگر رکھ دیا گیاہے۔

راجھستان میں گاؤں ہے جس کا نام  چوربسائی تھی مگر گاؤں  والوں کے اعتراض کے بعد اب اس کا نام بسائی رکھ دیا گیاہے ۔بھارت میں گاؤں  کا نام تبدیل کروانا انتہائی مشکل مرحلہ ہے ، پہلے ریاستی حکومت کے پاس درخواست جاتی ہے ، اس کے بعد وفاقی حکومت کے پاس جاتی ہے ۔ وہاں سے واپس ریاستی حکومت کے پاس آتی ہے جو متعلقہ محکموں ڈاک ، ریلوے ، اور دیگر محکموں کو سرکولر بھیجتی ہے ۔ یہ اہم ترین کام ہوتا ہے خط کتابت ، ہر طرح کے مسائل کو حل کرنےکے لیے سرکاری کاغذوں میں اس کا نام ہونا ضروری ہے جو مرکز میں درج ہوجاتاہے ۔ اس لیے یہ مرحلہ کافی وقت لیتا ہے۔

ہریانہ میں ہی ایک گاؤں  لُولا آہر ہے جو معذور افراد کے لیے استعمال ہونے والا انتہائی  ہتک آمیز لفظ ہے ۔ دو ہزار سولہ میں اسکا نام تبدیل کردیا گیاتھا۔ اب اس کا نام کرشن نگر ہے ۔