نااہل ہوا تو پارٹی کا سربراہ نہیں بنوں گا، عمران خان

نااہل ہوا تو پارٹی کا سربراہ نہیں بنوں گا، عمران خان

لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ ا گر نااہل ہوا تو پارٹی کا سربراہ نہیں بنوں گا،جمہوریت کیلئے مسلم لیگ ن ضروری لیکن کرپٹ خاندان لازمی نہیں۔


نیو نیوز کے پروگرام ” لائیو ود نصراللہ ملک “ میں گفتگو کرتے ہوئے عمران خا ن کا کہنا تھا کہ احتساب کے نام پر الیکشن میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے،مریم نوازدھمکیاں دے رہی ہے ان کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ نے خود کومجرم خاندان سے منسلک کر دیا اس سے ان کی پارٹی ٹوٹ جائیگی۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے بندر باٹ کر رکھی ہے یہ مک مکا کرکے وقت گزار رہےہیں اس وقت خورشید شاہ کے اوپر پچاس ارب روپے کی کرپشن کے کیس ہیں نوازشریف پرجو فرد جرم عائد ہو چکی انہوں نے 300ارب روپے باہر بھجوایا ہے ابھی والیم ٹین کھلے گا کہ کتنا پیسہ باہر گیا ہے اتنا ہی پیسہ زرداری باہر لیکر گیا ہے

عمران خان نے کہنا تھا کہ جب زرداری کی کرپشن پکڑنے لگے تو ساری گورنمنٹ اسکے ساتھ کھڑی ہو گئی سارے جیلوں کے چوروں کا پیسہ ملا بھی لیا جائے تو زرداری اور نوازشریف کی چوری کا پیسہ بہت زیادہ ہے، زرداری کے ہوتے ہوئے پیپلز پارٹی سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہیں ہو سکتی ۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اصل ایشو پر بات ہی نہیں کی جاتی پارلیمنٹ چوروں کو پارٹی کا صدر بنانے کیلئے بل پاس کر رہی ہے۔ چیئر مین تحریک انصاف نے کہا کہ میں پارلیمنٹ میں جاکر کیا کروں،میں عوام کا پیسہ چوری کرنے والوں سے کمپرومائز نہیں کر سکتا زرداری اور نوازشریف نے جو کچھ اس ملک کے ساتھ کیا کسی نے نہیں کیا ہوگا،انہوں نے پیسے چوری کرنے کیلئے ادارے تباہ کئے ان اداروں پر چوروں اور نااہل لوگوں کو بٹھا دیا ۔

الیکشن کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم الیکشن کیلئے تیار ہیں ، آئندہ الیکشن میں لاہور اور میانوالی سے الیکشن لڑوں کا ۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ انتخابات میں ہم تمام صوبوں میں کامیابی حاصل کرینگے۔ سپریم کورٹ میں نااہلی کیس پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 94فیصد منی ٹریل سپریم کورٹ میں جمع کراچکا ہوں، میں کبھی بھی ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ میں پیش ہونے سے انکار نہیں کیا یہ لوگ میری دس ماہ سے تلاشی لے رہے ہیں جو کچھ مانگا میں نے انھیں فراہم کئے، میں تو ایک کرکٹر تھا باہر کھیلتا تھا میں کوئی پبلک آفس ہولڈر نہیں تھا میں لندن کے فلیٹ کی خرید کی رسید دکھا دی میرا کیس تو ختم ہوجانا چاہئیے تھا ۔

ان کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین اپنی منی ٹریل دے رہے ہیں میں کہ رہا ہوں اچھا ہے ،میں نااہل نہیں ہو سکتا اگر ہو گیا تو میں کبھی بھی پارٹی کا سربراہ نہیں رہونگا میں اس مافیا کو جب تک زندہ ہوں نہیں چھوڑﺅنگا،مجھے اپنی نااہلی کی وجہ سمجھ ہی نہیں آتی ،میں ڈونر سے بندوق رکھ کر پیسے نہیں لیتا میں اللہ تعالی سے ڈرتا ہوں ۔ الیکشن کمیشن میں اپنی پیشی سے متعلق گفتگو سے کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں جاﺅںگا مجھے یہ بھی نہیں پتہ کہ کس چیز پر بلا رہے ہیں میں نے اس بات کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا ہواہے۔