مدینہ منورہ کے قریب خیبر میں قدیم دیواروں کا انکشاف

مدینہ منورہ کے قریب خیبر میں قدیم دیواروں کا انکشاف

مدینہ منورہ: مدینہ منورہ کے قریب خیبر کے تاریخی علاقے میں پرانی دیواروں کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔


یہ تاریخی فصیلیں خیبر سے شروع ہوتی ہیں اور ان کا سلسلہ شام اور اردن تک پہنچتا ہے۔ گوگل ارتھ سے لی جانے والی فضائی تصاویر میں تاریخی فصیلیں صاف نظر آتی ہیں۔ ماہرین آثار قدیمہ اس راز کو فاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ حرة خیبر میں موجود ان دیواروں کی وجہ کیا ہے؟ آسٹریلیا میں ویسٹرن یونیورسٹی کے پروفیسر اور ماہر آثار قدیمہ ڈیوڈ کینیڈی نے حیرت اور استعجاب کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا سعودی عرب کے بارے میں یہ تصور کہ یہ محض صحرائی علاقہ ہے مگر معلوم ہوا کہ یہاں انسانی تاریخ کے خزانے دفن ہیں۔

ماہرین آثار قدیمہ کو چاہیئے کہ ان خزانوں کو نکال کر لوگوں کے سامنے پیش کریں۔ صحرائے عرب میں دفن یہ خزانہ تاریخ انسانی کو سمجھنے میں کافی مددگار ثابت ہوگا۔ خیبر کے علاقے میں بعض جگہوں پر تین فٹ اونچی دیواریں نظر آتی ہیں جبکہ بعض دیگر جگہوں پر یہ دیوار صحراءمیں دفن ہوچکی ہے۔ س

یٹلائٹ سے لی جانے والی تصاویر سے معلوم ہوا ہے کہ سعودی عرب کے 400 مختلف مقامات پر دیوار کا سلسلہ نظر آتا ہے۔ ابتدائی اندازے کے مطابق اس فصیل کی عمر 9 ہزار سال تک ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ سعودی عرب کے قوانین اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ غیر ملکی ماہرین مملکت میں آثار قدیمہ کی تلاش کریں اس لئے ہم نے سعودی ماہرین کی مدد حاصل کی ہے۔

بعدازاں گوگل ارتھ کے ذریعے علاقے کی تصاویر لی گئیں تو معلوم ہوا کہ فصیلوں کا سلسلہ کافی دور تک اور انتہائی منظم انداز میں تعمیر کیاگیا ہے۔ اس انکشاف پر رائے لینے کیلئے ڈاکٹر ڈیوڈ کینیڈی سے بات کی گئی۔ ماہرین آثار قدیمہ اس راز کو منکشف کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اس قدر طویل دیواریں اس علاقے میں تعمیر کی گئی ہیں۔