واٹس ایپ نے صارفین کی دیرینہ خواہش پوری کردی،نیا فیچر متعارف کروادیا

واٹس ایپ نے صارفین کی دیرینہ خواہش پوری کردی،نیا فیچر متعارف کروادیا

سان فرانسسکو: واٹس ایپ نے صارفین کی سب سے بڑی دیرینہ خواہش کو پورا کردیا ہے۔

تفصیلات کےمطابق پیغام رسانی کے لیے استعمال ہونے والی فیس بک کی زیرملکیت ایپلیکیشن واٹس ایپ  نے مخصوص صارفین کے لیے ایسا فیچر متعارف کرایا ہے جس کے ذریعے وہ غیر ضروری پیغامات بھیجنے یا تنگ کرنے والوں سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں۔

ڈبلیو اے بیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق کمپنی نے اینڈرائیڈ بیٹا ورژن 2.20.201.10 استعمال کرنے والے صارفین کے لیے فیچر آزمائشی طور پر متعارف کرادیا۔

اس فیچر کو ’Always Mute‘ کا نام دیا گیا ہے جس کے تحت صارف جس نمبر کو ایک بار Mute کرے گا تو اُس سے دوبارہ میسج نہیں آئے۔

فیچر کی کامیاب آزمائش کے بعد اسے تمام صارفین کے لیے متعارف کرایا جائے گا۔اس فیچر کی مدد سے صارفین کسی بھی Contactیا Groupکے نوٹیفکیشن کو ہمیشہ کے لیے Mute کرسکیں گے۔

یاد رہے کہ اس وقت صارف کو واٹس ایپ کی جانب سے زیادہ سے زیادہ ایک سال تک کسی گروپ کو میوٹ کرنے کی سہولت حاصل ہے البتہ اس فیچر کے بعد صارفین کی جان چھوٹ جائے گی۔

صارف واٹس ایپ کھول کر جب مطلوبہ چیٹ کو تھوڑی دیر تک پریس کر کے رکھے گا تو اُسے اوپر آئیکون بنے نظر آجائیں گے، جہاں 8 گھنٹے، 1 ہفتہ اور آل ویز کے آپشن ہوں گے جسے اپنی مرضی کے مطابق منتخب کرنا ہوگا۔

صارف اگر نوٹی فکیشن کو دوبارہ بحال کرنا چاہے تو اُسے سپیکر یا ان میوٹ پر کلک کرنا ہوگا۔

یاد رہے کہ پیغام رسانی کی مقبول ویب سائٹ واٹس ایپ کی دنیا بھر میں استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد دو ارب تک پہنچ گئی ہے۔

واٹس ایپ انتظامیہ کے اعلان کے مطابق 2018 میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد ڈیرھ ارب تھی۔ سال 2016 میں دنیا بھر میں واٹس ایپ استعمال کرنے والے صارفین کی یہ تعداد ایک ارب تھی۔

ایک رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ چلانے والی کمپنی اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک کے صارفین کی تعداد ایک ارب پچاس کروڑ ہے، جبکہ اسی کمپنی کے دوسرے پلیٹ فام انسٹا گرام کے صارفین کی تعداد ایک ارب ہے۔

واٹس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مختلف حکومتوں کی جانب سے دباؤ کے باوجود صارفین کے درمیان معلومات کے تبادلے کو خفیہ رکھنے کے عمل کو ختم نہیں کیا جارہا ہے۔

مختلف حکومتوں کا کہنا ہے لوگوں کے پیغامات پڑھنے تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے یہ دریافت کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ کب دہشت گرد اور دیگر جرائم پیشہ عناصر مختلف تخریب کاریوں کے لیے میسجنگ ایپ کا استعمال کرتے ہیں اور ان کا سراغ لگانا مشکل ہوجاتا ہے۔

واٹس ایپ کے سی ای او وِل کیتھ کارٹ کا کہنا ہے کہ کمپنی کی اپنی خدمات پر صارفین کے درمیان خفیہ کاری کو غیر فعال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

ان کا کہنا ہے کہ پوری انسانی تاریخ میں لوگ ایک دوسرے سے نجی طور پر بات چیت کرنے میں کامیاب رہے ہیں اور ہمارا نہیں خیال کہ جدید معاشرے میں اسے ختم نہیں ہونا چاہیے۔